نکاح سے قبل لڑکے کا لڑکی کو دیکھنا

 

مخطوبہ کو دیکھنا

یعنی نکاح سے قبل لڑکے کا لڑکی کو دیکھنا اور لڑکی والوں کا لڑکی کو بنائو سنگُھار کرکے لڑکے کے سامنے پیش کرنایا لڑکے والوں کا اسکا مطالبہ کرنا۔

احسن   الفتاوی جلد ۸ کتاب الخطروالاباحۃص۵۲ پر لکھا ھے:

یہ طریقہ ہرگز جائز نہیں ٗ۱نتہائی درجے کی بے غیرتی و بے حیائی ہے ۔ اگر ہر شخص اس طرح صاف صاف دیکھنے کا مطالبہ کرے اور اس کا یہ بے ہودہ مطالبہ پورا کِیا جانے لگے تو نامعلوم ایک ایک لڑکی کو شادی کے لئے کتنے کتنے لڑکوں کو دکھانے کی نوبت آئے گی ٗ گھوڑی اور گائے کی سی کیفیت ہو جائے گی کہ گاہک آتے ہیں ٗ دیکھتے ہیں ٗ ناپسند کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

نباہ کا تعلق صرف صورت ہی سے نہیں ہوتا بلکہ دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت ٗ گفت وشنید ٗ نشست وبرخاست ٗ امور خانہ داری و دیگر کئی امور کو اس میں بڑا دخل ہے ٗ اور صرف صورت دیکھ کر ان سب امور کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا ازبس مشکل ہے۔

حدیث سے اس حیا سوز مروج طریق پر استدلال کرنا جہالت و تحریف دین ہے۔ حدیث میں رویۃ کا ذکر ہے نہ کہ اراء ۃ کا ٗ اور حکم رویۃ کا مطلب یہ ہے کہ اگر لڑکا چھپ چھپا کر دیکھ سکتا ہو تو اجازت ہے ۔ چھپ چھپا کر دیکھنے میں بھی ایسا طریقہ اختیار کرے کہ کسی کو بدنظری کی بدگمانی نہ ہو۔ اس پر یہ دلائل ہیں

( ۱)

بعض روایات میں ان   استطاع کی تصریح ہے۔

(۲)

خود حضور اکرم  ﷺ نے مخطوبہ کو عورت کے ذریعے دکھوایا ٗ حالانکہ آپ  ﷺ امت کے لئے بمنزلۂ والد ہیں اور کسی مفسدہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں تھا۔

(۳)

دو صحابہ حضرت جابر و حضرت محمد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا عمل یہ منقول ہے کہ وہ چھپ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا عمل حدیث کی تشریح ہوتا ہے   خصوصاً حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل ٗ کیونکہ ان کو تو خود حضور اکرم  ﷺ نے دیکھنے کا حکم فرمایا تھا۔

لڑکی کو اطلاع کئے بغیر خواتین کے ذریعہ دکھوانا جائز ہے۔ لڑکی کو اطلاع ہو تو خواتین کے ذریعہ دکھوانے میں بھی درج ذیل قباحتیں ہیں۔

(۱)

اگر لڑکی دیندار وحیادارقوم کی ہے تو شرم کے مارے ڈوب ڈوب جائے گی ٗ سامنے آئے گی ہی نہیں ٗ اگر سامنے آبھی جائے تو نہ کچھ بولے گی ٗ نہ کوئی کام کرے گی ٗ ایک کونے میں دبکی بیٹھی رہے گی ٗ باقی امور تو درکنار صورت کا صحیح اندازہ کرنا بھی مشکل ہوگا۔

(۲)

اگر لڑکی بے دین اور بے حیا خاندان کی ہے تو صورت میں ٗ گفتگو میں ٗ کام کاج میں ٗ غرض ہر چیز میں تصنع کرے گی ٗ حقیقت کا پتہ چلانا نا ممکن ہوگا۔

اگر خواتین اچانک جائیں گی تو لڑکی اصلی ہیئت میں ہوگی ٗ اصلی صورت کے علاوہ گفتار ٗ رفتارواطوار سب کچھ اپنی اصلی ہیئت میں نظر آئے گی۔

(۳)

اگر پسند نہ آئے تو لڑکی مایوسی و احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے اور ذلت محسوس کرتی ہے۔

(۴)

رشتہ نہ کرنے کی صورت میں دونوں طرف کے خاندان کے درمیان سخت منافرت پیدا ہوتی ہے  ایک دوسرے کو منہ دکھانا گوارا نہیں کرتے۔

آخری دو نمبروں کے پیش نظر ایسی صورت اختیار کرنا بہتر ہے کہ گھر والوں کو بھی اطلاع نہ ہو۔

عن          جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ اذا خطب احدکم المرأۃ فان استطاع ان ینظرالی مایدعوہ الی نکاحھا فلیفعل قال        فخطبت جاریۃ فکنت اتخبّاَلھا حتی رأیت منھا مادعانی الی نکاحھا و تزویجھا فتزوجتھا (ابودائود ص۲۹۱ ج۱

عن      سھل بن ابی حثمۃ قال رأیت محمد بن مسلمۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یطارد تُبَیتۃ بنت الضحا ک فوق اجادلہ ببصرہ طرداشدیدا فقلت اتفعل ھذا     وانت من اصحاب رسول اللّٰہ ﷺ فقال انی سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول اذا لقی فی قلب امریٔ خطبۃ امرأ ۃ فلا بأس ان ینظر الیھا (شرح معانی الآثار ص ۱۰ ج۲

عن   انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ان النبی ﷺ ارادان یتزوج امرأۃ فبعث بامرأۃ لتنظرالیھا فقال ش میھا عوارضھا وانظری الی عرقوبیھا۔   (عمدۃ القاری بحوالہ بیہقی  ص ۱۱۹ ج ۲۰

قال     العلامۃ ظفر احمد  العثمانی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ: قال العبد الضعیف وحجۃ الجمھور قول جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ’’فخطبت جاریۃ فکنت اتخبأ‘‘ والراوی        اعرف بمعنی مارواہ ف دل علی انہ لا یجوزلہ ان یطلب من اولیا ئھا ان یحضروھا بین یدیہ لما فی ذلک من الاستخفاف بہم و لا یجوز ارتکاب      مثل ذلک لارمباح ولاان ینظر الیھا بحیث تطلع علی رویۃ لھا من غیر اذنھا لأن المرأۃ تستحی من ذلک ویثقل(؟) نظرالاجنبی الیھا          علی قلبھا لما جبلھا اللّٰہ علی الغیرۃ و قد یفضی ذلک الی مفاسد عظیمۃ کما لا یخفی و انما یجوز لہ ان یتخبأ لھا وینظر الیھا خفیۃ و مثل ھذا  النظر یقتصر علی الوجہ والکف والقدم لا یعدوھا الی مواضع اللحم و لا الی جمیع البدن (اعلاء السنن ص ۳۸۰ ج۱۷) واللّٰہ سبحانہ          وتعالیٰ اعلم۔

اسی طرح کا فتوی امدادالفتاوی ج ۴ ص ۲۰۰ پر بھی ہے ۔

سرخی ہے:کنواری لڑکیوں کو عورتوں سے پردہ کرانا خلاف حدیث نہیں

سوال:  (۲۴۱) میں نے لڑکی کو لڑکے کی والدہ اور پھوپھی اور بہن کو اس لئے دکھایا کہ احادیث شریفہ کی رُو سے خود لڑکے کو دیکھنا درست ہے تو اُس کے اقربائے نسواں کو دکھانا بھی حسب حدیث عمل ہوگا   اگرچہ بعض جگہ لڑکی کو دکھانے کی رسم عرفاً معیوب سمجھی جاتی ہے ٗ مگر جوعرف کہ خلاف حدیث ہو وہ قابل عمل نہیں ٗ پس میرا یہ عمل و خیال وتوجیہ درست ہے کہ نہیں ٗ اور اگر درست نہ ہو تو بصراحت آگاہ فرمایا جاوے تاکہ عرف خلاف حدیث قابل عمل ہونے کی حقیقت از طفیل رہنمائی حضور موضوح ہو؟

الجواب:     یہ عرف اُس حدیث کے خلاف نہیں ہے ٗ کیونکہ حدیث سے رویت ثابت ہے ٗ نہ کہ ارائت یعنی حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکی والے اس خاطب کو خود لڑکی دکھلادیں ٗ بلکہ خاطب کو اجازت ہے کہ اگر تمہارا موقع لگ جاوے تو تم دیکھ لو ٗ پس اسی طرح جو عورت خاطب کے قائم مقام ہے اُس کا دیکھ لینا تو اس حدیث میں حکماً داخل ہو سکتا ہے ٗ باقی یہ ہرگز حدیث کا مدلول نہیں کہ لڑکی والے اہل خاطب کو دکھلایا کریں ٗ حدیث اس سے محض ساکت ہے ٗ اگر تجربہ سے نسوان خاطب کو دکھلانا خلاف مصلحت ثابت ہو ٗ اُن سے پردہ کرانے کا عرف ہرگز خلافِ حدیث نہیں ٗ جیسا عورتوں کو دکھلا دینا بھی خلاف حدیث نہیں ٗ شرعاً دونوں شقوں کا اختیار ہے۔

 

Facebook Comments