ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب کی کتاب سے اقتباس

 

 

دین کا کام  کرنے والوں کیلئے چند  ضروری باتیں

از  ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب مدظلہ

 

موجودہ  حالات میں دعوت و تبلیغ کا کام:(ص ۲۳ تا ۲۷

ہمارے دَور میں سارا نظام ہی بے دینی اور بددینی پر چل رہا ہے حکومت کا بھی یہی حال ہے اور  عام طور سے عوام کی بھی یہی روش ہے۔

بہت سے دین سے تعلق رکھنے والے بھی صرف ایک حد تک دین پر چلتے ہیں اور باقی کاموں میں وہ بھی آزاد ہیں۔ غرض دین مغلوب ہے اور بے دینی وبددینی کو فروغ حاصل ہے اور اسی کا چرچا ہے۔ لاعلمی اور جہالت بھی عام ہے۔ گمراہیاں بھی اپنے عروج پر    ہیں۔ غرض حالات  دین کے مقابلہ میں کفر کے زیادہ قریب ہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو تفصیل اُوپر دی گئی ہے وہ ان حالات میں زیادہ مفید اور موثر نہیں اس لئے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فائدہ جہاں اور جتنے درجے تک ہو اس پر تو عمل کرنا ضروری ہو گا البتہ جہاں یہ مفید نہ ہووہاں دعوت کے طریقے سے کام کرنا ہوگا یعنی نرمی اور شفقت سے سمجھانا اور ان کی ایذائوں پر صبر کرنا اور ان کو برداشت کرنا۔

علاوہ ازیں عام بے دینی کی فضا میں بہت بڑی تعداد میں کام کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے مُسلمان عوام سے دعوت کا کام لینے کی ضرورت ہے البتہ ان کی ضروری تعلیم و تربیت سے غفلت نہ ہونی چاہئے۔

عورتوں  کا امربالمعروف و نہی عالمنکر اوردعوت کا کام کرنا

عورتوں کے کام سےمتعلق موٹی موٹی باتیں یہ ہیں

( ۱)

عورتوں پر بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر لازم ہے۔

(۲)

دین کی نشرواشاعت میں مالی امداد کر سکتی ہیں۔

(۳)

جن کے مرد  دعوت کا کام کر رہے ہوں وہ اپنی طرف سے ان کو بے فکر رکھیں اور بچوں کی دیکھ بھال بھرپور طریقے سے کریں۔

(۴)

پاس پڑوس کی بچیوں کو قرآن پاک کی اور ضروری دینی تعلیم دے سکتی ہیں بلکہ پاس پڑوس کی بڑی عمر کی عورتوں کی دینی تعلیم کی فکر کر سکتی ہیں۔

(۵)

کبھی کہیں کچھ عورتیں جمع ہوں خواہ ایک خاندان کی ہوں یا متفرق ہوں کچھ دین کی بات کر سکتی ہیں یا کوئی معتبر کتاب مثلاً فضائل اعمال یا بہشتی زیور یا تحفہ خواتین وغیرہ میں سے کچھ پڑھ کر سنا سکتی ہیں۔

عورتوں کا تبلیغ کے لئے گھر سے نکلنا:

حضرت اسماءؓ بنت یزید انصاری صحابیہ رسول اللہ  ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کِیا یا رسول اللہ  ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان میں مسلمان عورتوں کی طرف سے بطور قاصد کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔ بے شک آپ کو اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا اس لئے ہم عورتوں کی جماعت آپ پر ایمان لائی اور اللہ پر ایمان لائی لیکن ہم عورتوں کی جماعت مکانوں میں گھری رہتی ہے پردوں میں بند رہتی ہے مردوں کے گھروں میں گڑی رہتی ہے اور مردوں کی خواہشیں ہم سے پوری کی جاتی ہیں ہم ان کی اولاد کو پیٹ میں اُٹھائے رہتی ہیں اور ان سب باتوں کے باوجود مرد بہت سے ثواب کے کاموں میں ہم سے بڑھے رہتے ہیں۔ جمعہ میں شریک ہوتے ہیں ٗ بیماروں کی عیادت کرتے ہیں ٗ جنازوں میں شرکت کرتے ہیں ٗ حج پر حج کرتے رہتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر جہاد کرتے رہتے ہیں اور جب وہ حج کے لئے یا عمرہ کے لئے یا جہاد کے لئے جاتے ہیں تو ہم عورتیں ان کے مالوں کی حفاظت کرتی ہیں ٗ ان کے لئے کپڑا بنتی ہیں ٗ ان کی اولاد کو پالتی ہیں ٗ کیا ہم ثواب میں ان کی شریک نہیں؟

رسول اللہ  ﷺ یہ سن کر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ تم نے دین کے بارے میں اس عورت سے بہتر سوال کرنے والی کوئی سنی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ  ﷺہم کو خیال بھی نہ تھا کہ عورت بھی ایسا سوال کر سکتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ  ﷺ اسماء ؓ  کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ غور سے سنو اور جن عورتوں نے تم کو بھیجا ہے ان کو بتا دو کہ عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ اچھا برتائو کرنا اور اس کی خوشنودی کو ڈھونڈنا اور اس پر عمل کرنا ان سب چیزوں کے ثواب کے برابر ہے۔ اسماء ؓ یہ جواب سن کر نہایت خوش ہوئی واپس ہوگئیں (حکایات صحابہ ۔ حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ

یہ قصہ اس بارے میں نص صریح ہے کہ عورت کے لئے اصل کے اعتبار سے دین کے نام پر بھی گھر سے نکلنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر جائز ہوتا تو سوال کی مناسبت سے رسول اللہ  ﷺ یہ ضرور فرماتے کہ تم بھی اللہ کے راستے میں نکل سکتی ہو۔

غرض یہ مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کی عورتوں کی دینی ضروریات کا خیال رکھیں ان کی دینی تعلیم کا اہتمام کریں اور ان کو کوئی بھی مسئلہ پیش آجائے تو علماء سے پوچھ کر ان کو بتائیں۔ رسول اللہ  ﷺ کے زمانہ میں اس دَور کے حالات کی بناء پر عورتوں کو جو نمازوں کے لئے نکلنے کی اجازت تھی آپ  ﷺ کے بعد حالات میں تغیر آنے کی وجہ سے وہ نکلنا صحیح نہیں اور دعوت وتبلیغ یا جہاد کے لئے نکلنے پر جو فضائل وارد ہوئے ہیں عورتوں سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے لئے نکلنے کا حکم نہیں ہے بلکہ گھر میں جمے رہنے کا حکم ہے۔

البتہ جب مجبوری ہو کہ عورت کی دینی ضروریات پوری کرنے کی گھر کے مردوں کو فکر نہ ہو تو اس وقت عورت گھر سے خود دین کا مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نکل سکتی ہے اور بنیادی دینی تعلیم دینے کی خاطر معلمہ بھی اپنے گھر سے نکل سکتی ہے۔چونکہ آج کل بے دینی اور غفلت بلکہ بددینی کا رواج و غلبہ ہے اور بہت سے گھرانوں میں مرد اپنی ذمہ داریوں سے غافل اور بے فکر ہیں اس لئے دین کی بنیادی باتیں سیکھنے سکھانے کے لئے ضرورت کے درجہ میں اگر عورتیں پردے اور حجاب کے پورے آداب کے ساتھ نکلیں خواہ ایک عورت ہو یا چند عورتیں مل کر ہوں تو یہ جائز ہے لیکن چونکہ یہ مجبوری کا نکلنا ہے اس لئے اس میں چند باتوں کی رعایت لازم ہے۔

(۱)

دعوت و تبلیغ کے لئے یا علم دین کی طلب کے لئے مستقل نکلنے کی ترغیب نہ دی جائے اور نہ ہی نکلنے کے فضائل بیان کئے جائیں کیونکہ ان فضائل کا تعلق عورتوں سے براہ راست نہیں ہے بلکہ اپنے مردوں کے واسطہ سے ہے جیسا کہ اُوپر کے قصہ سے معلوم ہوا۔

(۲)

چونکہ نکلنا ضرورت و مجبوری سے ہے لہٰذا نکلنا بقدر ضرورت ہو جہاں مثلاً دو عورتوں کے نکلنے سے کام چل سکتا ہو وہاں ایک بھی زائد عورت نہ جائے۔

(۳)

چونکہ عورتوں کا نکلنا خود اصل مقصد نہیں ہے بلکہ اصل مقصد ایمان واحکام کو سیکھنا ہے اس لئے اس دوران بھی اور آئندہ کے لئے بھی عورتوں کی بنیادی دینی تعلیم کا بندوبست ہونا چاہیے۔ پھر جو عورتیں اتنا کچھ سیکھ جائیں وہ بلاوجہ کے ہر قسم کے پروگراموں میں شریک نہ ہوں بلکہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے پاس پڑوس کی عورتوں اور بچیوں میں محنت کریں تاکہ زیادہ عورتوں کو نکلنے کی ضرورت نہ پڑے۔

(۴)

عورتوں کے بڑے اجتماع سے مکمل اجتناب ہو محلہ کی سطح پر بھی جو اجتماع ہو وہاں بھی پرانی سیکھی ہوئی عورتیں بقدر ضرورت ہوں۔(اگر) ہر ایک اس میں شریک ہونے کو اپنی ذمہ داری سمجھے یا بڑی فضیلت کی چیز سمجھے (تو)یہ فکر غلط ہے۔ محلہ کی سطح پر بھی چھوٹا اجتماع ہو،  تاکہ لوگوں کو کوئی غیر معمولی بات نظر نہ آئے۔

(۵)

دین کا کام کرنے کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ ایک میاں بیوی جن کو ضرورت کی دینی تعلیم دی گئی ہو وہ کسی محلہ میں جا کر دس پندرہ دن یا کم و بیش ٹھہر جائیں اور محلہ کی عورتیں ان خاتون سے آکر دین کے احکام اور فضائل سیکھیں۔

(۶)

دین کے نام پر عورتیں مظاہرہ کریں یا جلسہ کریں یا جلوس نکالیں یہ غیر شرعی حرکت ہے۔

بالغ لڑکیوں کے دینی مدارس:

قریب البلوغ اوربالغ لڑکیوں اور عورتوں کو بھی بنیادی دینی تعلیم سیکھنا ضروری ہے۔ اس سے زائد تعلیم حاصل کرنا کہ عربی زبان بھی سیکھیں اور دین کا پورا علم حاصل کریں ان پر ضروری نہیں ہے نہ اس کا سیکھنا ان پر ضروری ہے اور نہ ہی اس کا سکھانا ان پر ضروری ہے۔ اگر اپنے گھر کے مردوں سے سیکھنے کا موقع مل جائے تو بہت ہی اچھا ہے ورنہ اس غیر ضروری کام کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں۔

علاوہ ازیں اس عمر میں گھر میں قرار پکڑنے کی عادت ڈلوانا ضروری ہے۔ اگر اسی عمر میں چار پانچ سال کے لئے روز مدرسہ آنے جانے کی عادت رہے گی تو آئندہ عمر میں گھر میں جمے رہنا مشکل ہوگا اور پھر خصوصاً ہمارے علاقوں میں بہت سے دینی و معاشرتی مسائل پیدا ہوں گے جن کا کچھ نہ کچھ مشاہدہ اب بھی ہونے لگا ہے۔

تنبیہ:

(۱)

عام طور پر یہ سوچا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں لڑکیاں اگر مدرسہ میں نہیں جائیں گی تو کالج میں جائیں گی کیونکہ اُنہوں نے گھر میں تو مقید رہنا نہیں ہے پھر کیوں نہ مدرسہ میں ہی جائیں جہاں وہ دین کے بہت سے احکام پر عمل کرنا سیکھ لیتی ہیں اور اس طرح ایک بڑے پیمانے پر واضح تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ لڑکیوں کے مدارس بند کر دئیے جائیں تو ان کے بہت سے فوائد سے محرومی ہو جائے گی۔اس کا جواب یہ ہے کہ بہت سے دیندار لوگ اپنی لڑکیوں کو کالجوں میں تو بھیجتے ہی نہیں تھے اور جو بھیجتے تھے ان کے ہاں اس کی وجہ سے اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا تھا تو وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی اس کو اپنی غلطی کا نتیجہ سمجھنے پر مجبور ہوتے تھے۔ مدارس کے نام پر بہت سے دینداروں نے بھی اپنی لڑکیاں بھیجنی شروع کر دی ہیں۔ اب اگر کوئی مسائل اُٹھیں گے تو ظاہر ہے کہ اس کی زد  د ین پر پڑے گی۔

(۲)

کسی کام یا نظام میں خرابی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس سے منسلک تمام افراد میں وہ خرابی نظر آئے۔ چند افراد میں خرابی کا پیش آنا اس کام کے  غلط ہونے کے لئے کافی ہے جب کہ وہ کام فرض یا واجب نہ ہو۔

جوان شادی شدہ مردوں کا چار ماہ سے زائدا گھر سے دُور رہنا (ص۴۲ تا۴۶)

حضرت عمرؓ کے دور کی بات ہے اُنہوں نے  ایک رات ایک عورت کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا۔

فواللہ لو          لا اللہ تخشی عواقبہ

لزحزح من ھذا السریر جوانبہ

اللہ کی قسم اگر (فعل بد کے) انجام کا ڈر نہ ہوتا تو اس چار پائی کے کنارے اس سے دُ ور ہو جاتے۔

حضرت عمرؓ نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اس عورت کے شوہر کو جہاد میں گئے بڑا عرصہ ہو گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ دیکھ کر کہ اس عورت کو اپنے شوہر کی طلب ہو رہی ہے اپنی بیٹی اُم المومنین حضرت حفصہؓ سے پوچھا کہ عورت اپنے مرد کے بغیر کتنا عرصہ رہ سکتا ہے۔ حضرت حفصہؓ خود بھی عورت تھیں بلکہ اُم المومنین بھی تھیں اور عورتیں اپنے مسائل لے کر ان کے پاس آتی تھیں۔ اس لئے وہ عورتوں کی فطری ضروریات سے خوب باخبر ہوں گی۔ اُنہوں نے تحقیقی جواب دیا کہ چارہ ماہ تک اور یہ جواب چونکہ ان جیسی عورتوں سے مل سکتا تھا اس لئے حضرت عمرؓ نے ان کی بات کو لے کر فوج کے کمانڈروں کو یہ حکم جاری فرمایا کہ شادی شدہ فوجی اپنی بیوی سے چارماہ سے زائد دُور نہ رہے۔

حضرت عمرؓ  کا حکم اس بارے میں قول فیصل ہے۔ وہ خلیفہ راشد ہیں اور ان کے طریقے کی اتباع امت پر لازم ہے۔ اس طریقے کے آنے کے بعد اب ہمارے  لئے سابقہ طریقوں کا حجت بنانا صحیح نہیں۔

اس طرح چونکہ یہ مسئلہ کوئی اکادکا عورت کا نہیں بلکہ تمام مجاہدین اور دین کا کام کرنے والوں کی عورتوں کا ہے بلکہ دنیا کی خاطر دوسرے علاقوں میں جانے والوں کی عورتوں کا بھی ہے لہٰذا یہ بات اس فقہی ضابطہ میں بھی نہیں آتی کہ کل دین یا مفادعامہ کی خاطر کسی خاص شخص کے ضرر کو برداشت کِیا جائے گا علاوہ ازیں کام کر دیکھ کر بہت سی متبادل صورتیں اختیار کرنا بھی ممکن ہے۔

(۲)

قرآن پاک میں ایلاء کی مدت چار ماہ رکھی یعنی اگر کوئی قسم کھا لے کہ وہ بیوی سے صحبت نہیں کرے گا تو اس کو چارہ ماہ کی مہلت ملے گی اگر اس دوران وہ صحبت کر لے تو قسم توڑنے کا کفارہ دے اور بیوی نکاح میں باقی رہے گی لیکن اگر صحبت نہ کی تو چار ماہ پورے ہوتے ہی ایک طلاق بائن پڑ جائے گی تاکہ عورت آزاد ہو کر چاہے تو کسی اور سے نکاح کر لے۔ علامہ ابن عابدینؒ  لکھتے ہیں۔

و لو لم یکن فی ھذہ المدۃ زیادۃ مضار ۃ بھا لما شرع اللہ تعالیٰ الفراق بالا یلاء فیھا

اگر اس مدت میں عورت کا زیادہ نقصان نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ایلاء سے اتنی مدت میں طلاق ہونے کا حکم نہ دیتے۔

ان نصوص کی بناء پر فقہاء (جو قرآن و حدیث کے ماہر ہوتے ہیں) کہتے ہیں کہ چار ماہ میں ایک مرتبہ صحبت کرنا دیانتہً واجب ہے۔ حو الجات یہ ہیں۔

(۱)

و اعلم         ان ترک جماعھا مطلقا لا یحل لہ۔ صرح اصحابنا بان جماعھا احیانا و اجب لکنہ لا یدخل تحت القضائ… و لم یقدرو   افیہ مدۃ ویجب ان لایبلغ بہ مدۃ الایلاء الا برضا و طیب نفسھا   (فتح القدیر:  باب                     القسم

(۲)

و یجب دیانۃ احیانا و لا یبلغ مدۃ الا یلاء الا برضا ھا  (درمختار)

فقہائے حنفیہ کا یہی قول ہے جو قرآن و سنت کے عین مطابق ہے۔

تنبیہ:

(۱)

ممکن ہے کہ کسی کو یہ خیال ہو کہ الا    برضا کے الفاظ سے خود حنفیہ کے نزدیک عورت کی اجازت سے زائد عرصہ کے لئے باہر رہنا صحیح ہے۔ یہ بات درست نہیں کیونکہ الا  برضاھا کا مطلب ہے کہ شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے اس کا صحبت کو چار ماہ سے زائد موخر کرنا بیوی کی اجازت سے جائز ہے۔ بعد میں جب بھی وہ مطالبہ کرے تو اس کا مطالبہ پورا کِیا جائے گا پیشگی اجازت کافی نہیں۔ پیشگی اجازت لے کر شوہر سال دو سال کے لئے باہر چلا جائے اور عورت کو درمیان میں طلب پیدا ہو تو وہ اپنا حق وصول نہیں کر سکتی حالانکہ یہ شرعی حکم بھی موجود ہے کہ اگر بیوی اپنی باری دوسری بیوی کو دے دے خواہ ہمیشہ کے لئے کہہ دیا ہو اور پھر کسی وقت دوبارہ مطالبہ کرے تو اس کا مطالبہ پورا کِیا جائے گا۔

و ان رضیت ا    حدی الزوجات بترک قسمھا لصا حبتھا جاز… و لھا ان ترجع فی ذلک لا نھا اسقطت حقالم تجب بعد فلا یسقط (ھدایہ  باب القسم

(۲)

بعض لوگ حضرت عمرؓ کے فرمان کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ جہاد میں گئے ہوئے لوگ اگر گھر جانے کی اجازت لیں تو ان کو چار ماہ سے زائد نہ روکا جائے۔ یہ مطلب لینا درست نہیں کیونکہ

(i)

یہ مطلب روایت کردہ الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ  ’’اگر جازت لیں‘‘ کا مضمون فرمان کے الفاظ میں موجود نہیں۔

(ii)

یہ مطلب اصل واقعہ سے بھی مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ مطالبہ عورت کا تھا اور اس کی خاطر حکم جاری ہوا تھا کسی مرد نے مطالبہ نہیں کیا تھا لہٰذا یہ حکم کسی مرد کے چاہنے یا نہ چاہنے پر موقوف نہیں تھا۔

(iii)

فقہاء نے حضرت عمرؓ کے فرمان کا جو مطلب سمجھا ہے اصولی طور پر اس کو ترجیح حاصل ہے امام ترمذیؒ اپنی سنن میں فرماتے ہیں

احادیث کے معافی کو فقہاء ہی زیادہ سمجھنے والے ہیں۔

(۳)

مذکورہ بالا سب باتوں کے باوجود اگر کوئی شخص پھر بھی یہ خیال کرے کہ حضرت عمرؓ نے یہ حکم جاری کرنے کے لئے اپنے اہل شوری سے مشورہ نہیں کیا اور دوسرے مسائل کی طرح اس پر اجماع نہیں کرایا اور یہ کہ یہ حضرت حفصہ ؓ  کی اجتہادی رائے تھی اور یہ کہ رسول اللہ  ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ سے اس بارے میں کوئی ہدایت صراحتہً یا کنا یتہ ثابت نہیں اور یہ جہاد یا دعوت کے کام کے لئے بھیجنے والوں کے سپرد ہے کہ وہ ہر شخص کے حالات کی تحقیق کرکے اس کو کم وبیش مدت کے لئے بھیج سکتے ہیں تو یہ شخص اس قابل ہے کہ اس پر افسوس کِیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری   تنبیہ:

تدوین فقہ کے بعد اور فقہاء کی ترجیح و تصحیح کے بعد مقلد علماء کے لئے یہ کیونکر مناسب ہے کہ ائمہ فقہ کی تصریحات کو نظر انداز کرکے دور صحابہ کے واقعات سے خود استنباط کریں جب کہ ان کے استنباط فقہاء کی تصریحات کے مخالف بھی ہوں۔ ہاں اگر کوئی مسئلہ فقہ میں نہ ملتا ہو تو متبحرین حضرات قرون اولی کے حالات وواقعات کی طرف مراجعت کریں تو وہ جائز ہے۔

۔۔۔۔۔

 

Facebook Comments