احسن الفتاوی سے اقتباس

 

احسن الفتاوی سے اقتباس

احسن الفتاوی جلد ۸ کتاب الحظروالاباحۃ

عورتوں  کے لئے اسکول کالج کی تعلیم جائز نہیں:(ص۳۲

عورت کو عصر حاضر کے کالجوں ٗ یونیورسٹیوں میں تعلیم دلانے میں کئی مفاسد ہیں ٗ خواہ لڑکیوں کا لڑکوں کے ساتھ اختلاط نہ بھی ہو :

( ۱)

عورت کا بلاضرورت شرعیہ گھر سے نکلنا اور اجانب کو اپنی طرف مائل کرنے کا سبب بننا۔

(۲)

برے ماحول میں جانا۔

(۳)

مختلف مزاج رکھنے والی عورتوں سے مسلسل اختلاط کی وجہ سے کئی خرابیوں کا جنم لینا۔

(۴)

کالج یونیورسٹی کی غیر شرعی تقریبات میں شرکت۔

(۵)

بلاحجاب مردوں سے پڑھنے کی معصیت۔

(۶)

بے دین عورتوں سے تعلیم حاصل کرنے میں ایمان و اعمال اور اخلاق کی تباہی۔

(۷)

بے دین عورتوں کے سامنے بلا حجاب جانا ٗ شریعت نے فاسقہ عورت سے بھی پردہ کرنے کا حکم دِیا ہے۔

قال  العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللّٰہ    تعالی:و لا ینبغی للمرأۃ الصالحتہ ان تنظرالیھا المرأَ ۃالفاجرۃ لانھا تصفھا عند الرجال فلاتضع جلبابھا ولاخمارھا کما فی السراج     اھ (ردالمحتارص ۲۲۸ ج ۵

(۸)

کافر اور بے دین قوموں کی نقالی کا شوق۔

(۹)

اس تعلیم کے سبب حب مال اور حب جاہ کا بڑھ جانا اور اس کی وجہ سے دنیا و آخرت تباہ ہونا۔

(۱۰)

شوہر کی خدمت ٗ اولاد کی تربیت اور گھر کی دیکھ بھال ٗ صفائی وغیرہ جیسی فطری اور بنیادی ذمہ داریوں سے غفلت۔

(۱۱)

دفتروں میں ملازمت اختیار کرنا جو دین و دنیا دونوں کی تباہی کا باعث ہے۔

(۱۲)

مردوں پر ذرائع معاش تنگ کرنا۔

(۱۳)

شوہر پر حاکم بن کر رہنا۔

مخلوط طریقہ تعلیم میں مفاسد مذکورہ کے علاوہ لڑکوں کے ساتھ اختلاط اور بے تکلفی کی وجہ سے لڑکوں ٗ لڑکیوں کی آپس میں دوستی ٗ عشق بازی ٗ بدکاری اور اغواء جیسے گھنائونے مفاسد بھی پائے جاتے ہیں۔ اس لئے عصر حاضر کے تعلیمی اداروں میں عورتوں کو تعلیم دلانا جائز نہیں۔

عورت کو ڈاکٹری تعلیم دلانا:(ص۳۳):

عورت کے لئے عصر حاضر کے میڈیکل کالجوںمیں تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں ٗ خواہ طریقۂ تعلیم مخلوط ہو یا غیر مخلوط کیونکہ پڑھانے والے دونوں صورتوں میں مرد اساتذہ ہوتے ہیں ٗ عورتوں کے لئے طبی تعلیم کی صحیح صورت یہ ہے کہ مردوں سے علیحدہ انتظام ہو اور پڑھانے والی بھی خواتین ہوں۔۔۔ الخ

عورت کو لکھنا سکھانا:(ص۳۴):

بقدر ضرورت سیکھنا سکھانا جائز ہے ٗ البتہ اگر آثار و قرائن سے کسی عورت کی طبیعت میں شر ظاہر ہو اور فتنہ کا اندیشہ ہو تو جائز نہیں۔

اخرج       الامام البخاری رحمہ اللّٰہ تعالیٰ عن عائشۃ بنت طلحۃ قالت قلت لعائشۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا و انا فی حجرھا        وکان الناس یأتونھا من کل مصر فکان الشیوخ ینتابون لمکانی منھاوکان الشباب یتأخرنی فیھدون الی ویکتبون الی      من الامصار فا قول لعائشۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا یا خالۃ ھذا کتاب فلان و ھدیتہ فتقول لی عائشۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا ای بنیۃ فاجیبی          واثیبی       فان لم یکن عندک ثواب اعطیتک فقالت تعطینی (الاوب المفرد ص ۴۰ھ  ج ۲

و اخرج            الامام ابودائود رحمہ اللّٰہ تعالیٰ عن الشفاء بنت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھما قالت دخل علی النبی ﷺوانا عند حفصۃ رضی          اللّٰہ تعالیٰ عنھا فقال لی الا تعلمین ھذہ رقیۃ النملۃ کما علمتیھا الکتابۃ۔

قال الملا علی القاری رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فی شرح ھذا الحدیث                              :  قال            الخطابی فیہ دلیل علی ان تعلم النساء الکتابۃ غیر مکروہ قلت یحتمل ان یکون جائز ا للسلف دون الخلف لفساد     النسوان فی ھذا الزمان ثم رأیت قال بعضہم خصت بہ حفصۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا لان نساء ہ ﷺ خصصن باشیاء قال تعالی                  ٰ ینساء النبی لستن کا حد من النساء و خبر لا تعلمن الکتابۃ یحمل علی عامۃ النساء خوف الافتتان علیھن (المرقاۃ۳۶۴؍۸

و قا   ل العلامۃ السھار نفوری رحمہ اللّٰہ تعالیٰ: فیہ       دلیل علی جواز تعلم النساء الکتابۃ و اما حدیث لا تعلموھن الکتابۃ فمحمول علی من یخشی   فی تعلیمھا الفساد (بذل المجھود ص ۸ ج۶)

واللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

اجنبیہ سے بات کرنا:(ص۴۰):

غیر محرمہ عورتوں سے بقدر ضرورت بات کرنا جائز ہے ٗ بلاضرورت جائز نہیں ٗ ہنسی مزاج کرنے یا اس کا جواب دینے کی کوئی گنجائش نہیں ٗ سخت گناہ ہے بلاضرورت دیکھنا بھی جائز نہیں حتیٰ الامکان حفاظت نظر بھی ضروری ہے۔      ایسے ماحول میں بات کرنا پڑے تو ان کو شرعی پردہ کرنے کی ترغیب دے ٗ قرآن و حدیث کے احکام بیان کرے۔

قال         العلامۃ الحصکفی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:  وفی الشرنبلا     لیۃ معز یا للجوھرۃ و لا یکلم الا جنبیۃ الاعجوزاعطست اوسلمت فیثمتھا     و یرد السلام علیھا و الا لا انتھی وبہ بان ان لفظۃ لا فی نقل القھستانی ویکلمھا بما لا یحتاج الیہ زائدۃ فتنبہ۔

و قال     العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:  (قولہ زائد  ہ) ببعدہ قولہ فی القنیۃ رامزاویجوز الکلام المباح مع امرأَۃ اجنبیۃ اھ و فی المجتبی         رامزا و فی الحدیث دلیل علی انہ لا بأس ان یتکلم مع النساء بما لا یحتاج الیہ و لیس ھذا من الخوض فی ما لا یعنیہ انما ذلک فی کلام فیہ اثم اھ فالظاھر انہ قول اٰخر او محمول علی العجوز تأمل و تقدم فی شروط الصلوۃ ان صوت المرأۃ عورۃ علی        الراحج و مرالکلام فیہ فراجعہ (ردالمحتار۲۳۶؍۵

قال       العلامۃ الحصکفی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فی شروط الصلوۃ:  و للحرۃ و لوخنثی جمیع بدنھا حتی شعرھا النازل فی الاصح خلاالوجہ         و الکفین فظھر الکف عورۃ علی المذھب و القدمین علی المعتمد و صوتھا علی الراحج و ذر اعیہ علی المرجوح۔

و قا  ل العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:  (قولہ  وصوتھا)  معطوف علی المستثنی یعنی انہ لیس بعورۃ ح (قولہ علی الراجح)    عبارۃ البحرعن الحلیۃ انہ الاشبہ و فی النھرو ھو الذی ینبغی اعتمادہ و مقابلہ ما فی النوازل نغمۃ المرأۃ عورۃ و تعلمھا القرآن        من المرأۃ احب قال علیہ الصلوۃ والسلام التسبیح للرجال و التصفیق للنساء فلا یحسن ان یسمعھا الرجل اھ و فی الکافی     و لاتلبی جھر الان صوتھا عورۃ و مشی علیہ فی المحیط فی باب الاذان بحر قال فی الفتح و علی ھذا لوقیل اذا جھرت بالقرائۃ   فی الصلوۃ فسدت کان متجھا و لھذا منعھا علیہ الصلوۃ والسلام من التسبیح بالصوت لا علام الامام بسھوہ الی التصفیق      اھ فاقرہ البرھان الحلبی فی شرح المنیۃ الکبیر و کذ ا فی الامداد ثم نقل عن خط العلامۃ المقدسی ذکرالامام ابوالعباس        القر طبی فی کتابہ فی السماع و لا یظن من لا فطنۃ عندہ انا اذا قلنا صوت المرأۃ عورۃ ان نرید بذلک کلا مھا لان ذلک لیس               بصحیح فانا نجیز الکلام مع النساء للاجانب و محاورتھن عند الحاجۃ الی ذلک و لا نجیز لھن رفع اصواتھن ولا تمطیطھا ولا        تلیینھا و تقطیعھا لما فی ذلک من استمالۃ الرجال الیھن و تحریک الشھوات منھن و من ھذا لم یجزان تؤذن المرأۃ اھ  قلت       و یشیرالی ھذا تعبیر النوازل بالنغمۃ (رد المحتار ص ۲۷۲ج ۱) واللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

عورتوں کا تفریح کے لئے نکلنا (ص۴۸ تا۵۱

سوال :

عورتوں اور لڑکیوں کا تفریح کے لئے برقع اوڑھ کر اپنے شوہر، والد یا کسی اور محرم کے ساتھ عام تفریح گاہوں جیسے کلفٹن، ہاکس بے، ہل پارک وغیرہ میں جانا، شرعا کیسا ہے؟ جبکہ عام طور پر علماء کرام بغیر کسی شرعی ضرورت کے عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنا ناجائز بتاتے ہیںکیونکہ اگرچہ عورتیں خود برقع میں ہوں  اور ان کے چہرہ پر کسی غیر مرد کی نگاہ نہ پڑے  لیکن خود ان عورتوں کی نگاہ تو مردوں کے چہروں پر پڑتی ہے اور وہ ان کو دیکھتی ہیں، کیا تفریح کے لئے تفریح گاہوں میں جانا شرعی ضرورت میں شامل ہے؟ جبکہ علماء کرام حج و عمرہ پر جانے والی عورتوں کو نماز کے لئے مسجد حرام اور مسجد نبویﷺ میں جانے سے منع فرماتے ہیں، تو کیا تفریح کی اہمیت ان مسجدوں میں نماز پڑھنے سے بھی زیادہ ہے؟ آج کل بعض دیندار لوگ بھی صوفیانہ وضع کے ساتھ اپنی بیوی اور جوان لڑکیوں کو لیکر عام تفریح گاہوں اور پارکوں میں جا کر بیٹھنے اور کچھ کھانے پینے کا شغل کرتے ہیں یعنی ایک طرح کی پکنک مناتے ہیں، جس سے عام لوگوں کے ذہنوں میں اس کے جواز کا خیال پیدا ہوتا ہے ، اس طرح ان کا عام تفریح گاہوں میں جانا دین کے متعلق غلط تصور پیش کرنے کے مترادف معلوم ہوتا ہے اور عوام الناس کی ایسے کاموں کی ہمت افزائی کا باعث ہے۔ اس لئے اس کے متعلق مفصل فتوی تحریر فرما کر ممنون فرمائیں۔ بینوا توجروا۔

الجواب    باسم ملہم الصواب:

قرآن و حدیث میں عورت کو پردے کی سخت تاکید اور عورت کے باہر نکلنے میں مفاسد کثیرہ کے پیش نظر عورت کا تفریح کے لئے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ٗ ا گر نکلے گی تو اس کے علاوہ اس کا شوہر اور دوسرے اولیاء بھی سخت گنہگار ہوں گے ٗ ان سب پر ایسے فسق و فجور سے توبہ کرنا فرض ہے۔ اختصار کے ساتھ چند دلائل ا و ر مفاسد ملا حظہ ہوں:

(۱)

عورت کو بلا ضرورت برقع اوڑ ھ کر بھی گھر سے نکلنا حرام ہے:

(۱)

و قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنّ َ وَ لَا تَبَرَّ جْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی۔  (۳۳۔۳۳

(۲) وَ اِذَا سَاَ لْتُمُوْھُنَّ م َتَاعًا فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّ رَآئِ حِجَابٍ ط  ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَ قُلُوْبِھِنَّ ط (۳۳۔۵۳

اس آیت سے ثابت ہوا کہ سوا ل وجواب کی ضرورت کے وقت بھی عورت برقع وغیرہ میں لپیٹ کر سامنے نہ جائے بلکہ وراء حجاب رہ کر ضرورت پوری کی جائے۔

(۳)

عن ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ فی قصۃ الفتی حدیث العھد بعرس فاذا امر أتہ بین البابین قائمہ فاھوی الیھا بالرمح     لیطعنھا بہ و اصابتہ غیرہ ٗ رواہ مسلم۔

(۴)

عن جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ ان المرأۃ تقبل فی صورۃ شیطان و تدبرفی صورۃ شیطان۔رواہ مسلم

(۵)

عن ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ عن النبی ﷺ قال المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان ٗ رواہ الترمذی۔

(۶)

عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما عن النبی ﷺ لیس للنساء نصیب فی الخروج الا مضطرۃ ٗرواہ الطبر انی فی الکبیر

(۲)

عورت برقع وغیرہ میں لپٹ کر بھی باہر نکلے گی تو غیر محارم پر نظر پڑے گی ٗ حدیث میں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو ایک متقی نابینا صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا گیا ہے:

عن ام       سلمۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا انھا کانت عند رسول اللّٰہ ﷺ و میمونۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا اذا                                          قبل ابن ام مکتوم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فدخل علیہ فقال رسول اللّٰہﷺ اجتجبامنہ فقلت یا رسول اللّٰہ الیس ھواعمی لا یبصرنا       فقال      رسول اللّٰہ ﷺ افعمیا وان انتما الستما تبصر انہ ٗ رواہ احمد و الترمذی وابوداود۔

(۳)

باہر نکلنے میں منکرات و فواحش ٗ عریاں عورتوں اور تصاویر پر نظر پڑے گی جس کا قلب پر بُرا اثر پڑے گا۔

(۴)

گانوں باجوں کی آوازیں کان میں پڑیں گی اور قلب پر اثر کریں گی۔

(۵)

بے دین لوگوں کی مختلف قسم کی آوازیں کان میں پڑیں گی ٗ جن سے قلب متاثر ہوگا۔

(۶)

اس زمانے میں غلبہ فساد کی وجہ سے گھر سے باہر ہر طرف فسق و فجور کا ماحول ہوتا ہے  جس سے فضا تک متاثر ہوتی ہے ٗ انسان کے قلب پر لازماً اس کا اثر پڑتا ہے۔

(۷)

اگر عورت پردے میں بھی نکلے تو بھی فساق و فجار اس کی طرف غور سے دیکھتے ہیں اور ان کا میلان اس کی طرف ہوتا ہے اور اس کا سبب یہ عورت بنی ٗ اس لئے یہ بھی گنا ہ گار ہوئی ٗ اسی لئے قرآن وحدیث میں اشخاص کا پردہ بھی ضروری قرار دِیا گیا جس کے دلائل کی تفصیل نمبر(۱) کے تحت گزر چکی ہے۔

مفاسد مذکورہ اگرچہ مردوں کے خروج میں پائے جاتے ہیں مگر مرد اور عورت کے خروج میں دو وجہ سے فرق ہے

(۱)

مرد کا خروج ضروراتِ دینیہ و دنیویہ کی وجہ سے ہوتا ہے ٗ اس لئے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتے ہیں اور عورت کا تفریح کے لئے نکلنا ضرورت میں داخل نہیں۔

(۲)

حفظ صحت کے لئے بھی مردوں کو باہر نکلنے کی ضرورت ہے ٗ عورتوں کو اس کی ضرورت نہیں ٗ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی مخلوق پیدا فرمائی ہے ٗ اس کی صحت کے  لئے جو چیزیں ضروری ہیں ٗ اللہ تعالیٰ نے اس کے ماحول میں وہ چیزیں پیدا فرما دی ہیں اور اس کے ماحول کو اس کے مطابق بنا دِیا ہے۔

پھر  مختلف قسم کی مخلوق کے افراد میں بھی باہم تفاوت ہوتا ہے۔

ہر فر د کی جو طبیعت اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے ٗ اس کے ماحول کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ساز گار بنا دیا ہے ٗ روزمرہ اس کا مشاہدہ اور تجربہ ہوتا رہتا ہے ٗ جن علماء و مشایخ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ بیٹھ کر دلجمعی سے کام کرنا مقدر فرما دیا ہے ان کی صحت اسی ماحول میں ٹھیک رہتی ہے  باہر کہیں سفر پر جاتے تو بیمار ہو جاتے ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے باہر نکل کردوسرے ممالک میں تبلیغ ٗ اشاعتِ دین اور اصلاحِ عوام کا کام مقدر فرما دِیا ہے ان کی صحت پے درپے سفر کرنے ہی سے ٹھیک رہتی ہے ٗ چند دن گھر رہتے تو بیمار ہو جاتے ہیں۔

عورتوں کو وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ کا حکم ہے ٗ اس لئے اللہ تعالیٰ نے گھر کے اندر کا ماحول ان کے لئے ساز گار بنا دیا ہے ٗ جس عورت کو صحت کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت محسوس ہو تو یہ اس کی دلیل ہے کہ کثرت معاصی سے اس کی فطرت تبدیل ہو گئی ہے ٗ یہ اس کے بے دین ہونے کی علامت ہے ۔ دیندار عورتوں کی صحت گھر ہی میں ٹھیک رہتی ہے۔ ہاں! صحت کے لوازم میں سے ورزش مسلمات میں سے ہے ٗ اور گھر کے کام کاج سے عورتوں کی ورزش ہوتی رہتی ہے۔

ورزش کا معیار یہ ہے:

(۱)

سانس تیز ہو جائے ۔

(۲)

پسینے آنے لگیں۔

(۳)

تھکاوٹ محسوس ہو۔

اگر عورت کو گھر میں اتنا کام نہیں ہے تو چکی پیسیں ٗ عورتیں گھرکا کام تو کرتی نہیں ہیں ٗ اس کے لئے ملازمہ رکھتی ہیں ٗ اس لئے صحت کے لئے باہر نکلنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

قال    الشیخ ابوسعید الخادمی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

(ویمنع من الحمام) ای الزوج زوجتہ من الذھاب الی  حمام السوق وھوالمتبادر ظاہر الاطلاق ساواۃ الشابۃ وغیر ھالیلااونھارا عند فساد الزمان وامنہ۔   (البریقۃ المحمودیۃ  ص ۱۱ ج ۴

وقال        ایضا:

ولا یأذن لھا با لخروج الیٰ المجلس الذی یجتمع فیہ الرجال والنساء فیہ من المنکرات کا لتصدیۃ ورفع الاصوات المختلفۃ         واللعب من المتکلم بالقاء الکم وضرب الرجل علی المنبر و القیام و الصعودوالنزول عنہ فکل من المذکور مکروہ و لا            یحضر ولا یأذن لھا و لو فعل یتوب الی اللّٰہ تعالیٰ  (ایضاً  ص ۱۵

وقال                ایضاً:

ولا ید عھا ان تخرج من السترمن البیت فانھا عورۃ و خروجھا اثم و عدفی الخلاصۃ من المواضع التی یضرب الزوج زوجتہ   فیھا الخروج من البیت و فی القنیۃ: یضرب      ایضاً (الی)  او کشفت وجھھا لغیر محرم (ایضاً ص ۱۵۶

قال       الشیخ حافظ الدین محمد بن محمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

و لایأذن بالخروج الی المجلس الذی یجتمع فیہ الرجال و النساء و فیہ         المنکرات الخ  (البزازیۃ بھا مش الھندیۃ  ص ۱۵۶ ج ۴

و قال        ایضاً:

و فیما     عداہ من زیارۃ الاجانب و عیادتھم و الولیمۃ لا و ان یأذن و ان أذن الزوج کانا عاصیین (ایضاً  ص ۱۵۷

وقال           العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

و حیث        ابحنالھا الخروج فانما یباح بشرط عدم الزینۃ و تغیر الھیئۃ الی مایکون داعیۃ        لنظر الرجال و الا ستما لۃ (ردالمحتار  ص ۶۶۵ ج۲) واللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

عورت کا ڈرائیور کے ساتھ تنہا گاڑی میں بیٹھنا:(ص۵۱

سوال:

جامعات البنات کی طرف سے مقرر کردہ بس یا کار ڈرائیور کے لئے بدون محرم بنات کو گھر سے لانا اور واپس پہنچانا جائز ہے یا نہیں؟  بینواتوجروا۔

الجواب باسم ملہم الصواب:

اگر گاڑی میں دو یا زیادہ لڑکیاں ہوں تو ڈرائیور کے لئے لانا لے جانا جائز ہے ٗ ایک لڑکی کو لانا لے جانا جائز نہیں ٗ اس لئے کہ اس صورت میں خلوت بالا جنبیہ لازم آتی ہے جو مرد اور عورت دونوں کے لئے حرام ہے۔۔۔ الخ

مخطوبہ   کو دیکھنا:

(یعنی نکاح سے قبل لڑکے کا لڑکی کو دیکھنا اور لڑکی والوں کا لڑکی کو بنائو سنگُھار کرکے لڑکے کے سامنے پیش کرنایا لڑکے والوں کا اسکا مطالبہ کرنا)(ص۵۲

یہ طریقہ ہرگز جائز نہیں ٗ۱نتہائی درجے کی بے غیرتی و بے حیائی ہے ۔ اگر ہر شخص اس طرح صاف صاف دیکھنے کا مطالبہ کرے اور اس کا یہ بے ہودہ مطالبہ پورا کِیا جانے لگے تو نامعلوم ایک ایک لڑکی کو شادی کے لئے کتنے کتنے لڑکوں کو دکھانے کی نوبت آئے گی ٗ گھوڑی اور گائے کی سی کیفیت ہو جائے گی کہ گاہک آتے ہیں ٗ دیکھتے ہیں ٗ ناپسند کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

نباہ کا تعلق صرف صورت ہی سے نہیں ہوتا بلکہ دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت ٗ گفت وشنید ٗ نشست وبرخاست ٗ امور خانہ داری و دیگر کئی امور کو اس میں بڑا دخل ہے ٗ اور صرف صورت دیکھ کر ان سب امور کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا ازبس مشکل ہے۔

حدیث سے اس حیا سوز مروج طریق پر استدلال کرنا جہالت و تحریف دین ہے۔ حدیث میں رویۃ کا ذکر ہے نہ کہ اراء ۃ کا ٗ اور حکم رویۃ کا مطلب یہ ہے کہ اگر لڑکا چھپ چھپا کر دیکھ سکتا ہو تو اجازت ہے ۔ چھپ چھپا کر دیکھنے میں بھی ایسا طریقہ اختیار کرے کہ کسی کو بدنظری کی بدگمانی نہ ہو۔ اس پر یہ دلائل ہیں:

(۱)

بعض روایات میں ان        استطاع کی تصریح ہے۔

(۲)

خود حضور اکرم  ﷺ نے مخطوبہ کو عورت کے ذریعے دکھوایا ٗ حالانکہ آپ  ﷺ امت کے لئے بمنزلۂ والد ہیں اور کسی مفسدہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں تھا۔

(۳)

دو صحابہ حضرت جابر و حضرت محمد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا عمل یہ منقول ہے کہ وہ چھپ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا عمل حدیث کی تشریح ہوتا ہے   خصوصاً حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل ٗ کیونکہ ان کو تو خود حضور اکرم  ﷺ نےدیکھنے کا حکم فرمایا تھا۔

لڑکی کو اطلاع کئے بغیر خواتین کے ذریعہ دکھوانا جائز ہے۔ لڑکی کو اطلاع ہو تو خواتین کے ذریعہ دکھوانے میں بھی درج ذیل قباحتیں ہیں۔

(۱)

اگر لڑکی دیندار وحیادارقوم کی ہے تو شرم کے مارے ڈوب ڈوب جائے گی ٗ سامنے آئے گی ہی نہیں ٗ اگر سامنے آبھی جائے تو نہ کچھ بولے گی ٗ نہ کوئی کام کرے گی ٗ ایک کونے میں دبکی بیٹھی رہے گی ٗ باقی امور تو درکنار صورت کا صحیح اندازہ کرنا بھی مشکل ہوگا۔

(۲)

اگر لڑکی بے دین اور بے حیا خاندان کی ہے تو صورت میں ٗ گفتگو میں ٗ کام کاج میں ٗ غرض ہر چیز میں تصنع کرے گی ٗ حقیقت کا پتہ چلانا نا ممکن ہوگا۔

اگر خواتین اچانک جائیں گی تو لڑکی اصلی ہیئت میں ہوگی ٗ اصلی صورت کے علاوہ گفتار ٗ رفتارواطوار سب کچھ اپنی اصلی ہیئت میں نظر آئے گی۔

(۳)

اگر پسند نہ آئے تو لڑکی مایوسی و احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے اور ذلت محسوس کرتی ہے۔

(۴)

رشتہ نہ کرنے کی صورت میں دونوں طرف کے خاندان کے درمیان سخت منافرت پیدا ہوتی ہے  ایک دوسرے کو منہ دکھانا گوارا نہیں کرتے۔

آخری دو نمبروں کے پیش نظر ایسی صورت اختیار کرنا بہتر ہے کہ گھر والوں کو بھی اطلاع نہ ہو۔

عن     جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ اذا خطب احدکم المرأۃ فان استطاع ان ینظرالی مایدعوہ الی نکاحھا    فلیفعل قال فخطبت جاریۃ فکنت اتخبّاَلھا حتی رأیت منھا مادعانی الی نکاحھا و تزویجھا فتزوجتھا (ابودائود ص۲۹۱ ج۱

عن          سھل بن ابی حثمۃ قال رأیت محمد بن مسلمۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یطارد تُبَیتۃ بنت الضحاک فوق اجادلہ ببصرہ طرداشدیدا فقلت          اتفعل ھذا وانت من اصحاب رسول اللّٰہ ﷺ فقال انی سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول اذا لقی فی قلب امریٔ خطبۃ امرأۃ فلا بأس  ان ینظر الیھا (شرح معانی الآثار ص ۱۰ ج۲

عن      انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ان النبی ﷺ ارادان یتزوج امر أۃ فبعث بامرأۃ لتنظرالیھا فقال شمیھا عوارضھا وانظری الی عرقو      بیھا       ۔   (عمدۃ القاری بحوالہ بیہقی  ص ۱۱۹ ج ۲۰

قال           العلامۃ ظفر احمد العثمانی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

قا    ل العبد الضعیف وحجۃ الجمھور قول جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فخطبت جاریۃ                فکنت اتخبأ والراوی اعرف بمعنی مارواہ فدل علی انہ لا یجوزلہ ان یطلب من اولیا ئھا ان یحضروھا بین یدیہ لما فی ذلک         من الاستخفاف بہم و لا یجوز ارتکاب مثل ذلک لارمباح ولاان ینظر الیھا بحیث تطلع علی رویۃ لھا من غیر اذنھا لأن المرأۃ    تستحی من ذلک ویثقل(؟) نظرالاجنبی الیھا علی قلبھا لما جبلھا اللّٰہ علی الغیرۃ و قد یفضی ذلک الی مفاسد عظیمۃ کما لا           یخفی و انما یجوز لہ ان یتخبأ لھا وینظر الیھا خفیۃ و مثل ھذا النظر یقتصر علی الوجہ والکف والقدم لا یعدوھا الی مواضع اللحم                                                   و لا الی جمیع البدن (اعلاء السنن ص ۳۸۰ ج۱۷)

واللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

اسی طرح کا فتوی امداد الفتاوی ج ۴ ص ۲۰۰ پر بھی ہے ۔

سرخی ہے:کنواری لڑکیوں کو عورتوں سے پردہ کرانا خلاف حدیث نہیں

سوال:  (۲۴۱) میں نے لڑکی کو لڑکے کی والدہ اور پھوپھی اور بہن کو اس لئے دکھایا کہ احادیث شریفہ کی رُو سے خود لڑکے کو دیکھنا درست ہے تو اُس کے اقربائے نسواں کو دکھانا بھی حسب حدیث عمل ہوگا   اگرچہ بعض جگہ لڑکی کو دکھانے کی رسم عرفاً معیوب سمجھی جاتی ہے ٗ مگر جو عرف کہ خلاف حدیث ہو وہ قابل عمل نہیں ٗ پس میرا یہ عمل و خیال وتوجیہ درست ہے کہ نہیں ٗ اور اگر درست نہ ہو تو بصراحت آگاہ فرمایا جاوے تاکہ عرف خلاف حدیث قابل عمل ہونے کی حقیقت از طفیل رہنمائی حضور موضوح ہو؟

الجواب:

یہ عرف اُس حدیث کے خلاف نہیں ہے ٗ کیونکہ حدیث سے رویت ثابت ہے ٗ نہ کہ ارائت یعنی حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکی والے اس خاطب کو خود لڑکی دکھلادیں ٗ بلکہ خاطب کو اجازت ہے کہ اگر تمہارا موقع لگ جاوے تو تم دیکھ لو ٗ پس اسی طرح جو عورت خاطب کے قائم مقام ہے اُس کا دیکھ لینا تو اس حدیث میں حکماً داخل ہو سکتا ہے ٗ باقی یہ ہرگز حدیث کا مدلول نہیں کہ لڑکی والے اہل خاطب کو دکھلایا کریں ٗ حدیث اس سے محض ساکت ہے ٗ اگر تجربہ سے نسوان خاطب کو دکھلانا خلاف مصلحت ثابت ہو ٗ اُن سے پردہ کرانے کا عرف ہرگز خلافِ حدیث نہیں ٗ جیسا عورتوں کو دکھلا دینا بھی خلاف حدیث نہیں ٗ شرعاً دونوں شقوں کا اختیار ہے۔

۔۔۔۔

خواتین  کا تبلیغی جماعت میں نکلنا جائز نہیں (ص۵۵ تا۶۱)

عورتوں کا گھروں سے نکلنا بہت بڑا فتنہ ہے ٗ اس لئے حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس پر بہت سخت پابندی لگائی ہے اور دینی کاموں کے لئے بھی عورتوں کے نکلنے کو بالا تفاق حرام قرار دیا ہے۔

قال    العلا مۃ الخوارزمی        ناقلا عن فخر الاسلام رحمھما اللّٰہ تعالیٰ:

والفتوی      الیوم علی الکراھۃ فی الصلوات کلھا لظھور الفساد و متی کرہ حضور           المسجد للصلوۃ لان یکرہ حضور مجالس العلم خصوصا عند ھو لا ء الجھال الذین تحلوابحلیۃ العلم اولی (الکفایۃ مع       فتح القدیرص ۳۱۸ ج۱

و قا      ل العلامۃ الحصکفی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

ویکرہ حضور ھن الجماعۃ ولو لجمعۃ و عید و وعظ مطلقا و لو عجوز الیلا علی المذھب       المفتی بہ لفساد الزمان واستثنی الکمال بحثا العجائز المتفانیۃ۔

وقال         الامام الطحطاوی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

(قولہ           ولو لجمعۃ وعید ووعظ) قال فی مجموع النوازل یجوز للزوج ان یاذن لھا بالخروج      الی زیارۃ الابوین وعیاد تھما و تعزیتھما اواحد ھما و زیارۃ المحارم فان کانت قابلۃ اوغاسلۃ اوکان لھا علیٰ اٰخرحق اوعلیھا   حق تخرج بالاذن والحج علی ھذا او فیما عدا ذلک من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ لا یاذن لھا و لا تخرج و لو اذن           لھا وخرجت کا نا عاصیین و تمنع من الحمام و ان ارادت ان تخرج الی مجلس العلم بغیر رضی الزوج لیس لھا ذلک فان وقعت         لھا نازلۃ ان سأل الزوج من العالم واخبرھا بذلک لا یسعھا الخروج ٗ و ان امتنع من السؤال یسعھا الخروج من غیر رضی الزوج              وان لم یقع لھا نازلۃ وارادت ان تخرج لمجلس العلم لتعلیم المسألۃ من مسائل الوضوء والصلوۃ ان کان الزوج یحفظ المسائل و  یذکرھا معھالہ ان یمنعھا و ان کان لا یحفظھا الاولی ان یأذن لھا احیانا وان لم یأذن لھا فلاشی ء علیہ ولا یسعھا الخروج            ما لم تقع نازلۃ اھ (قولہ ولو عجوزا) اسم لمؤنث غیر لازم التاء کما فی الرضی و فی القاموس لا یقال عجوزۃ او لغۃ ردیئۃ من احدی             و خمسین الی اٰخر العمر قھستانی ٗ و قولہ لیلابیان للاطلاق ایضا (قولہ علی المذھب المفتی بہ) قد یقال ھذہ الفتوی التی      اعتمدھا المتأخرون مخالفۃ لمذھب الامام و صاحبیہ فانھم نقلوا ان الشابۃ تمنع مطلقا اتفاقا واما العجوز فلھا حضور الجماعۃ       عند الامام فی الصلوٰۃ الا فی الظہر والعصر و الجمعۃ فالا فتاء بمنع العجائز فی الکل یخالف الکل و ما فی الدر المنتقی         یوافق ما ھنا بحیث قال و فی الکافی وغیرہ اما فی زماننا فالمفتی بہ منع الکل فی الکل حتی فی الوعظ ونحوہ (حاشیۃ الطحطاوی                                                    علی الدر ص ۲۴۵ ج ۱

وقال         شمس العلماء العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

قال     المصنف فی الکافی والفتوی الیوم علی الکراھۃ فی الصلوات کلھا       لظھور الفساد ومتی کرہ حضور المسجد للصلوۃ فلأن یکرہ حضور مجلاس الوعظ خصوصا عند ھؤلاء الجھال الذین تحلو  ا بحلیۃ العلماء اولی ذکرہ فخر الاسلام اہ  (البحر الرائق ص ۳۵۸ ج ۱

وقال       العلامۃ عالم بن العلاء رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

والفتوی الیوم علی الکراھۃ فی کل الصلوات لظھور الفسادومتی کرہ حضور المسجد للصلوۃ لأن یکرہ حضور مجالس الوعظ خصوصا عند ھؤلاء الجھال الذین تحلوا بحلیۃ العلماء اولی۔ (الفتاوی التتارخانیۃ                                                  ص۶۲۸ج ۱

و قا ل الحافظ العینی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

(قال ویکرہ لھن حضور الجماعات) ای یکرہ للنساء (یعنی الشواب منھن وھی جمع شابۃ      و ھذہ اللفظۃ باطلاقھا تتناول الجمع و الا عیاد والکسوف و الا ستسقاء و عن الشافعی یباح لھن الخروج (لمافیہ) ای فی حضور     الجماعۃ (من خوف الفتنۃ) علیھن من الفساق وخروجھن سبب للحرام و ما یفضی الی الحرام فحرام وذکر فی کتاب الصلوۃ            مکان الکراھۃ الاسائۃ و الکراھۃ افحش۔ قلت        المراد من الکراھۃ التحریم ولا سیما فی ھذا الزمان لفسا د اھلہ۔

(ولا    بأس للعجوز ان تخرج فی الفجر و المغرب والعشاء) لحصول الا من و فی المغرب اختلاف الروایات و فی المنظومۃ الحق المغرب        بالعشاء کماذکرہ المصنف و المبسوط لشمس الائمۃ و فی المختلف الحق العصر و المغرب بالظہر کما فی مبسوط شیخ          الاسلام ویحتمل ان ذلک بناء علی ان المغرب تنتشر فیہ الفسقۃ ایضا کا لعصر فی بعض البلاد قیل ھذا کلہ فی زمانہم اما فی     زماننا فیکرہ خروج النساء الی الجماعۃ لغلبۃ الفسق و الفساد ٗ فاذاکرہ خروجھن الی الجماعۃ فلأن یکرہ حضور ھن مجالس      العلم خصوصا عند ھولاء الجھال الذین تحلوا بحلیۃ اھل العلم اولی (البنایۃ ص ۴۲۰ ج ۲

وقال        العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

و اذا منع حضور الجماعۃ فمنعھا عن حضور الوعظ والاستسقاء اولی ٗ وادخلہاالعینی فی      الجماعات  ٗ وما قلنا ہ اولی (منحۃ الخالق بھامش البحر ص ۳۵۹ ج ۱

وقال       العلامۃ ملا مسکین رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

و متی کرہ حضور المسجد للصلوۃ لأن یکرہ حضور ھن مجالس الوعظ خصوصا عندھولاء           الجھال الذین تحلوا بحلیۃ العلماء اولی ذکرہ فخر الاسلام۔

وقال  العلامۃ ابوالسعود رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

(قولہ و متی کرہ حضور المسجد الخ) ای کراھۃ تحریمیۃ دل علی ذلک قولہ فی النھر ولایحضرن ای لا یحل لھن ان یحضرن لکن ذکر بعدہ عن کتاب الصلوۃ انہ ذکرالاساء ۃ التی ھی ادون من الکراھۃ (فتح المعین     ص ۲۱۵ ج۱

وقال            العلامۃ ابوبکر بن علی الحداد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ:

والفتوی الیوم علی الکراھۃ فی الصلوات کلھا لظھور الفسق فی ھذا الزمان     و لا یباح لھن الخروج الی الجمعۃ عندابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کذافی المحیط فجعلھا کالظھر و فی المبسوط جعلھا کالعیدین       حتی انہ یباح لھن الخروج الیھا بالا جماع (الجوھرۃ ص۷۲ ج ۱

وقال العلامۃ السھار نفوری رحمہ اللّٰہ تعالیٰ معزیالشرح النقایۃ:

و الفتوی الیوم علی الکراھۃ فی الصلوات کلھا لظھورالفساد ومتی      کرہ حضورھن فی المسجد للصلوۃ فلأن یکرہ حضور ھن فی مجالس الوعظ حضوصا عندھؤلاء الجھال الذین تحلوا                  بحلیۃ               العلماء اولی ھکذا قال المشایخ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ ٗ و لو شاھد وا ما شاھدنا من حضور ھن بین مجالس و عاظ زماننا متبرجات بزینتھن لا   نکروا کل الانکارحم اللّٰہ معاشر الابرار (بذل المجھود ص ۳۱۹ ج۱

نصوص مذکورہ کا حاصل:

عورتوں کا گھروں سے نکلنا بہت بڑا فتنہ ہے۔ اس لئے حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے مسجد کی جماعت ٗ جمعہ ٗ طلب علم اور وعظ سننے کے لئے عورتوں کے نکلنے کو ناجائز قرار دِیا ہے۔جب ایسی اہم عبادات وضرورات دین کی خاطر تھوڑے سے وقت کے لئے قریب تر مقامات تک نکلنے پر بھی اس قدر پابندی ہے تو تبلیغ کے لئے کئی کئی دنوں بلکہ مہینوں اور چلوں کے لئے دُور دراز مقامات میں جانا بطریق اولیٰ ناجائز ہونا چاہیے۔

بصیرت فقہیہ:

حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی عبارات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ اموروینیہ کے لئے خواتین کے خروج کی ممانعت قرآن وحدیث میں منصوص نہیں ٗبلکہ ان  حضرات نے اپنے زمانے کے حالات اور شیوع فتن و فسادات کی وجہ سے اصول شریعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی آراء وانظار کا اظہار فرمایا ہے ٗ لہٰذا ان حضرات کا  فیصلہ کوئی نص قطعی اور حرف آخر نہیں ٗ بلکہ تغیر زمانہ سے اس میں ترمیم کی گنجائش ہے۔

دور حاضر میں غلبہ جہل اور  دین سے بے اعتنائی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خواتین کے لئے ضرورات شرعیہ سے خروج کو مطلقاً ممنوع و حرام قرار دینا اور کسی بھی ضرورت شرعیہ کے لئے خروج کی اجا زت نہ دینا اقامت دین کی بجائے ہدم دین ہے ٗ چنانچہ اسی کے پیش نظر مجموع النوازل میں مسائل شرعیہ معلوم کرنے کی ضرورت سے خروج کی اجازت دی گئی ہے ٗ ومر                   نصہ عن الطحطاری رحمہ اللہ تعالی۔لہٰذا بنظرفقہ اس مسئلہ میں تفصیل ذیل ضروری معلوم ہوتی ہے:

علم دین  کے لئے خروج:

احکام شریعت کے علم اور ان پر عمل کرنے میں تصلب وپختگی کی تحصیل کی غرض سے کسی ایسے مدرستہ البنات میں پڑھنا جائز ہے جس میں شرائط ذیل کی پابندی کا اہتمام ہو

(۱)

پڑھانے والی صرف خواتین ہوں ٗ نامحرم مرد سے پڑھنا جائز نہیں ٗ وجوہ عدم جواز کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

(۲)

معلمات روزمرہ کی زندگی سے متعلقہ مسائل واحکام شرع کے علم میں کمال رکھتی ہوں۔

(۳)

عمل میں پختہ ہوں اور متعلمات میں بھی عملی پختگی پیدا کرنے کی فکر رکھتی ہوں ٗ معاشرہ میں پھیلی ہوئی بدعات اور منکرات و فواحش سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کا ورد رکھتی ہوں ٗ بالخصوص وہ منکرات جو عام معاشرہ میں داخل ہو گئے ہیں ٗ جیسے بے پردگی تصویر ٗٹی وی ٗ غیبت وغیرہ۔

(۴)

نصاب تعلیم اور طریق تعلیم کا مقصد و محور یہی ہو جو اوپر بیان کیا گیا ٗ یعنی روزمرہ کی زندگی سے متعلقہ احکام شریعت کے علم اور اس کے مطابق عمل میں پختگی پیدا کرنا ٗ بالفاظ دیگر فکر آخرت پیدا کرنا ٗ اصطلاحی عالمات اور فاضلات بنانے والا نصاب واجب الترک ہے اور ایسے القاب حاصل کرنے کی ہوس واجب الاصلاح۔

(۵)

مدرسہ میں کوئی محرم چھوڑ کر آئے اور واپسی پر بھی کوئی محرم مرد ساتھ لائے۔

موجودہ جامعات البنات میں شرائط مذکورہ مفقود ہیں۔ علاوہ ازیں ان جامعات کی تعلیم میں

مندرجہ ذیل فسادات بھی ہیں:

(۱)

جامعات تک آمدورفت کے لئے گھر سے روزانہ خروج ودخول اور جامعہ میں وخول وخروج کے اوقات اور آمدورفت کا راستہ متعین ہونے کی وجہ سے بدمعاش لوگ تعاقب کرتے ہیں۔اور اگر کوئی گاڑی متعین ہو تو ڈرائیور شرارت کرتا ہے۔ یہ صرف خطرات ہی نہیں ٗ واقعات ہیں۔ اور جامعہ میں طالبات کی مستقل رہائش میں اس سے بھی زیادہ خطرات ہیں ٗ خواہ انتظام کتنا ہی بہتر ہو۔

(۲)

گھر سنبھالنے کی صلاحیت سے محرومی۔

(۳)

گھریلو کام کاج کو اپنی شان کے خلاف سمجھنا۔

(۴)

گھریلو کاموں کے لئے ملازمہ رکھتی ہیں جو فاسقات ہوتی ہیں اور دین ٗ جان ٗ عزت اور مال کے لئے مہلکات ثابت ہو رہی ہیں۔

(۵)

گھروں میں فارغ پڑی رہنے سے نفسانی وشیطانی خطرات کے علاوہ جسمانی ورزش نہ ہونے کی وجہ سے قلب وقالب دونوں کی صحت برباد۔

(۶)

جامعات سے فارغ ہونے والی ’’عالمات وفاضلات‘‘ میں مرض عجب وکبر۔

(۷)

قرآن وحدیث سے براہ راست تخریح مسائل کا شوق رکھتی ہیں جو دین کی تباہی اور شیوع الحاد کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ٗ بلکہ کتب فقہ سے بھی کسی غیر مفتی کے لئے مسائل کا نکالنا جائز نہیں۔

(۸)

ان ’’عالمات وفاضلات‘‘ کو علماء وفضلاء کے رشتے نہیں ملتے تو جہلاء بلکہ فساق و فجار اور بے دین ملحدین ومبتدعین سے بھی شادی کر لیتی ہیں جس میں علم دین کی سخت توہین ہے جو درحقیقت دین کی توہین ہے۔

حالات مذکورہ کے پیش نظر ان جامعات کی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ کرنا علماء پر فرض ہے۔ بہتر اور بے ضرر طریقہ صرف یہ ہے کہ بچیوں کو اپنے گھروں ہی میں رکھ کر مقصد مذکور تک پہنچانے کی کوشش کی جائے جس کے لئے مندرجہ ذیل اموراربعہ کا اہتمام کافی ہے:

(۱)

تجوید قرآن

(۲)

بہشتی زیور کی تعلیم

(۳)

کسی شیخ کامل کے مواعظ کی خواندگی

(۴)

گھر سنبھالنے کی صلاحیت اور گھر کا کام خود کرنے کا سلیقہ پیدا کرنا اور اس کی عادت ڈالنا۔

امور مذکورہ کی پابندی پر کچھ محنت تو کرنا پڑے گی مگر فکر آخرت ہو تو اتنی سی محنت کچھ بھی نہیں ٗ تحصیل دنیا کے لئے اس سے ہزاروں درجہ زیادہ محنتیں اور مشقتیں برداشت کی جارہی ہیں۔

نامحرم مرد سے پڑھنا بوجوہ ذیل ناجائز ہے:

(۱)

روزانہ نامحرم کی صحبت میں بیٹھنا۔

(۲)

زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا۔

(۳)

اشکالات علیمہ حل کرنے اور فہم وتفہیم کے لئے استاذ وطالبات کے درمیان بار بار مراجع۔

(۴)

قرب مکانی مجلس وعظ کی بنسبت زیادہ ہوتا ہے۔

(۵)

طالبات معدودات ہوتی ہیں اور استاذ کی نظر میں مشخصات و معہووات ٗ مجلس وعظ میں عموماً ایسے نہیں ہوتا۔

(۶)

معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ استاذ رجسٹر میں حاضری لگانے کے لئے ہر طالبہ کا نام پکارتا ہے اور وہ جواب دیتی ہے ٗ اس سے جانبین کے درمیان خصوصی معرفت اور مزید تعلق پیدا ہوتا ہے۔

مجلس  وعظ کے لئے خروج:

کسی نامحرم عالم کی مجلس وعظ میں جانے میں وہ مفاسد نہیں جو نامحرم استاذ سے پڑھنے میں بیان کئے گئے ہیں ٗمع ہذا اس کے لئے بھی یہ شرائط ہیں:

(۱)

واعظ کے علم ٗ تقوی اور طریق اصلاح پر علماء وقت کو اعتماد ہو۔

 

(۲)

بدعات اور منکرات وفواحش جو معاشرہ میں داخل ہو گئے ہیں ٗ ان سے بچنے بچانے پر زیادہ زور دیتا ہو۔

(۳)

اس کے وعظ سے صحیح مُسلمان بننے اور دوسروں کو بھی صحیح مسلمان بنانے کی فکر پیدا ہو اور معاشرہ پر چھا جانے والے منکرات چھوٹ جائیں۔

(۴)

پردہ کا مکمل انتظام ہو ٗ مقام وعظ کے دروازے پر بھی مردوں سے اختلاط سے حتیٰ الامکان پرہیز کِیا جائے۔

(۵)

خواتین مزین لباس اور زیور پہن کر ٗ رنگ و روغن سے آراستہ ہو کر اور خوشبو لگا کر نہ آئیں۔

(۶)

ہر بار جوڑا نہ بدلیں کم از کم ایک مہینے تک ہر حاضری میں ایک ہی جوڑا پہن کر آئیں۔

(۷)

خواتین کی مجلس مردوں اور واعظ کی مجلس سے اتنی دُور ہو کہ مکبرالصوت کے سوا آواز نہ پہنچ سکے ٗ اگر یہ مشکل ہو تو جتنا زیادہ فاصلہ ہو سکے۔

(۸)

ہفتہ میں ایک بار سے زیادہ نہ ہو ٗ اتنے وقفہ کے مناسب ہونے پر دین ودنیا میں کئی شواہد ہیں۔

 

حضرت فقہاء کرام رحمہم اللہ کے مطلقاً حرمت کے فیصلہ میں ضرورت شرعیہ سے کچھ گنجائش تلاش کرنے کی سعی مذکور کے باوجود خواتین کے لئے تبلیغی جماعت میں نکلنے کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں نکل سکی۔

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

۔۔۔۔۔

 

Facebook Comments