کتاب اصلاح خواتین سے اقتباس

 

کتاب اصلاح خواتین سے اقتباس

اصلاح  خواتین  ط ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان

ص ۳۶۰

مردوں پر عورتوں کی تعلیم ضروری اور واجب ہے۔

مرد عورتوں کی تعلیم اپنے ذمہ ہی نہیں سمجھتے۔ (حالانکہ) آپ حضرات کے ذمہ ان کی تعلیم بھی ضروری ہے۔ مردوں پر واجب ہے کہ ان کو احکام بتلائیں حدیث میں ہے کہ

کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ

یعنی تم سب ذمہ دار ہو تم سے قیامت میں تمہاری ذمہ داری کی چیزوں سے سوال کِیا جائے گا۔

مرد اپنے خاندان میں اپنے متعلقین میں حاکم ہے۔ قیامت میں پوجھا جائے گا کہ محکومین کا کیا حق ادا کِیا۔ محض نان نفقہ ہی سے حق ادا نہیں ہوتا بلکہ یہ کھانا پینا دُنیا کی زندگی تک ہے آگے کچھ بھی نہیں اس لئے صرف اس پر اکتفا کرنے سے حق ادا نہیں ہوتا چنانچہ حق تعالیٰ نے صاف لفظوں میں جواب فرمایا۔

یایھا       الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔

کہ اے ایمان والو اپنی جانوں کو اور اپنے اہل کو دوزخ سے بچائو

یعنی ان کی تعلیم کرو ٗ حقوق الٰہی سکھلائو ان سے تعمیل بھی کرائو… تو گھر والوں کو دوزخ سے بچانے کے معنی یہی ہیں کہ ان کو تنبیہ کرو بعض لوگ بتلاتو دیتے ہیں مگر ڈھیل چھوڑ دیتے ہیں کہتے ہیں کہ دس دفعہ تو کہہ دیا نہ مانیں تو ہم کیا کریں… سچ تو یہ ہے کہ مردوں نے بھی دین کی ضرورت کو ضرورت نہیں سمجھا کھانا ضروری فیشن ضروری ناموری ضروری مگر غیر ضروری ہے تو دین ۔دُنیا کی ذرا سی مضرت کا خیال ہوتا ہے اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر دین کی مضرت پہنچ گئی تو کیسا بڑا نقصان ہوگا۔ پھر اگر وہ مضرت ایمان کی حد میں ہے تو تب تو چھٹکارا بھی ہو جائے گا مگر نقصان (عذاب) پھر بھی ہوگا گودائمی نہ ہو اور اگر ایمان کی حد سے بھی نکل گئی تب تو ہمیشہ کا مرنا ہوگا اور تعجب ہے کہ دنیا کی باتوں سے تو بے فکری نہیں ہوتی مگر دین کی باتوں سے کس طرح بے فکری ہو جاتی ہے۔ (حقوق الزوجین مطبوعہ پاکستان ص ۳۵ دعوات عبدیت ص۱۷۰

خلاصہ یہ کہ حدیث کے بموجب بڑا چھوٹے کانگراں ہوتا ہے اور اس سے باز پرس ہو گی تو جس طرح ممکن ہو توعورتوں کو دین مرد خود سکھا دیں یا کوئی بی بی دوسری بیبیوں کو سکھا دے اور سکھانے کے ساتھ ان کا کاربند بھی بنا دے اس کے بغیر برأت نہیں ہوسکتی۔  (دعوات عبدیث ص ۸۱ ج۱۷

ص ۳۷۴:

زنانہ سکول میں تعلیم کا ضرر:

آج کل زنانہ سکول کے ذریعہ سے یا زنانہ مدارس کے ذریعہ سے تعلیم دینا تو سم قاتل ہے۔ میں مدارس نسواں کو پسند نہیں کرتا خواہ کسی عالم ہی کے ماتحت ہوں ۔ تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ ہرگز ہرگز ایسا نہ کرو ، ورنہ اگر تم نے میرا کہنا نہ مانا تو بعد میں پچھتائو گے۔ بس سکولوں اور مدرسوں کو چھوڑ دو عورتوں کو گھر ہی میں رکھ کر تعلیم دو ۔ اگر عربی تعلیم دو تو سبحان اللہ ورنہ اردو ہی میں دینا چاہئے۔ میرا ایک وعظ حقوق ا لبیت ہے اس کے اخیر میں اس پر مفصل کلام کیا گیا ہے ، جو قابل مطالعہ ہے۔

شرفاء نے کبھی اس کو پسند نہیں کیا کہ لڑکیوں کے لئے زنانہ مدرسہ ہو ۔ قصبات میں عموما لڑکیاں لکھی پڑھی ہوتی ہیں، مگر سب اپنے اپنے گھروں پر تعلیم پاتی ہیں ۔ مدرسہ میں کسی نے بھی تعلیم نہیں پائی۔ گھروں پر تعلیم پانے میں لڑکیوں کا کسی طرح کا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ پڑھانے والی بھی نیک اور پردہ نشین ہوتی ہے اور لڑکیاں بھی پردہ ہی میں رہ کر تعلیم پاتی ہیں۔ باقی یہ جو آج کل زنانے سکول ہوئے ہیں ، تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بہت ہی مضر ہیں ۔ رہا یہ کہ کیوں مضر ہیں ؟ چناچہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب سکول میں پردہ کا پورا اہتمام کیا جاتا ہے اور پردہ ہی کے ساتھ لڑکیوں کو بند گاڑی میں پہنچایا جاتا ہے تو پھر ان کے مضر ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ تو ہمیں اس کی علت کی خبر نہیں مگر تجربہ یہی ہے کہ سکولوں کی تعلیم عورتوں کو بہت ہی مضر ہوتی ہے ، اس سے ان میں آذادی اور بے حیائی اور پردہ سے نفرت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ اور (عورت کا سب سے بڑا وصف ) حیا ہے  اور یہی مفتاح ہے تمام خیر کی ۔اگر یہ نہ رہا تو پھر اس سے نہ کوئی خیر متوقع ہے نہ کوئی شر مستبعد  اذا فاتک الحیاء فافعل ما شئت (جب تم میں حیا نہ رہے سو جو چاہو کرو)  حقوق البیت ص ۳۲

ص ۳۷۵:

یہ میری سمجھ میں کسی طرح نہیں آتا کہ زنانہ مکتب قائم کیا جائے جیسے مردانے مکتب باقاعدہ ہوتے ہیں ۔ اس باب میں واقعات اس کثرت سے ہیں کہ ان واقعات نے یقین دلا دیا ہے کہ ایسے مکتبوں کا حال اچھا نہیں ہوتا اور امتحان ہو جانے کے بعد ہمیں وجہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں  لیکن یہ میری رائے ہے میں فتوی نہیں دیتا ۔ اگر تجربہ سے دوسری تجویز مفاسد سے خالی ہو تو اس پر عمل کیا جائے مگر عورتوں کو تعلیم ضرور دینا چاہیئے لیکن مذہبی تعلیم نہ کہ جدید تعلیم۔ (العاقلات الغافلات ۳۲۴

ص ۳۷۵:

میں نے تھانہ بھون میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ قائم کیا ہے۔ لڑکیاں ایک معلمہ کے گھر جمع ہو جاتی ہیں (وہی گھر گویا لڑکیوں کا مدرسہ ہے ) اور میں ان کی خدمت کر دیتا ہوں لیکن میں نے یہاں تک احتیاط کر رکھی ہے کہ میں خود کسی کو لڑکی بھیجنے کی ترغیب نہیں دیتا ۔ یہ انہی معلمہ سے کہ دیا ہے کہ یہ سب تمہارا کام ہے تم جتنی لڑکیوں کو بلائو گی تنخواہ زیادہ ملے گی ۔ اس مدرسہ میں ماہواری امتحان بھی ہوتا ہے سو لڑکیاں کبھی تو امتحان دینے کے لئے گھر پر چلی آتی ہیں اور میری اہل خانہ (بیوی) یا میرے خاندان کی کوئی بی بی ان کا امتحان لے لیتی ہے۔ ( امتحان میں نہیں لیتا) اور کبھی لڑکیوں کو نہیں بلایا جاتا بلکہ ممتحنہ (امتحان لینے والی) وہیں چلی جاتی ہیں اور امتحان لے لیتی ہیں ۔ صرف امتحان کا نتیجہ میرے سامنے پیش ہو جاتا ہے اور باقی ان پر میرا نہ کوئی اثر اور نہ دخل۔ نمبر ممتحنہ دیتی ہیں ، ان نمبروں پر انعام میں تجویز کرتا ہوں ۔

الحمد للہ اس طرز پر مدرسہ برابر چلا جا رہا ہے اور ایک بات بھی کبھی خرابی کی نہیں ہوئی۔ (الغرض) لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام یا تو اس طور پر ہو کہ لڑکیاں جمع نہ ہوں اپنے اپنے گھروں پر یا محلہ کی بیبیوں سے تعلیم پائیں لیکن آج کل یہ عادۃ بہت مشکل ہے یا اگر ایک جگہ جمع ہوں تو پھر یہ انتظام ہو کہ مردانہ سے سابقہ نہ رکھیں اور اپنی مستورات سے نگرانی کرائیں  ان سے خود بات چیت بھی نہ کریں ۔دوسرے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ سیکرٹری بضرورت متقی بن جائے۔ چاہے وہ آذاد خیال ہو مگر اسے مولوی کی شکل بنانا چاہیئے تاکہ معلمہ پر اس کے اس صوری تقوی کا اثر پڑے۔ میری دانست میں تعلیم نسواں کے یہ اصول ہیں ۔ آگے اور لوگ اپنے تجربوں سے کام لیں کچھ میرے خیالات کی تقلید ضروری نہیں۔ (اصلاح الیتامی حقوق و فرائض ۴۰۱،۴۰۴ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصلاح خواتین  ط المیزان:

باب ۱،     پردہ ٗ لباس ٗ زینت سے متعلق احادیثِ نبویہ

ص۳۰۰ تا۳۰۳:

(۱)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ  ﷺ کے پاس حاضر تھے کہ حضور  ﷺ نے سب سے دریافت فرمایا کہ بتلائو عورت کے لئے کون سی بات سے بہتر ہے۔ اس پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین خاموش ہو گئے اور کسی نے جواب نہ دِیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے واپس آکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کِیا کہ عورتوں کے لئے سب سے بہتر کیا بات ہے؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں نہ مردان کو دیکھیں۔ میں نے یہ جواب رسول اللہ  ﷺ سے عرض کِیا تو آپ  ﷺ نے فرمایا کہ فامہ میری لخت جگر ہے (اسی لئے وہ خوب سمجھیں)  (رواہ البز ار والدارقطنی فی الافراد)

(۲)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا رسول اللہ  ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور  ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورتوں کے لئے گھر سے باہر نکلنے میں کچھ حِصّہ نہیں مگر یہ کہ مجبور ومضطر ہوں (یعنی بغیر ضرورت و مجبوری کے عورتوں کو گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے) اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ عورتوں کے لئے راستوں میں چلنے کا کوئی حق نہیں سوائے کنارہ پر چلنے کے (یعنی اگر ضرورت میں باہر نکلنا اور راستہ میں چلنا ہو تو کنارہ کنارہ چلیں)۔  (طبرانی فی الکبیر)

(۳)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان کی صورت میں واپس جاتی ہے۔مسلم

(۴)

حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت عطر وخوشبو لگا کر مردوں کے پاس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں۔ وہ عورت زناکار ہے اور ہر آنکھ جو اس کو دیکھے زناکار ہے۔ (رواہ النسائی و ابن خزیمہ)

(۵)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ عورت سرتاپاپوشیدہ رہنے کے قابل ہے۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے۔ (رواہ الترمذی ٗ مشکوۃ)

یہ حدیث نہایت بلاغت اور وضاحت سے عورت کے پوشیدہ رہنے کی تاکید اور باہر نکلنے کو شیطانی فتنہ کا سبب ہونا بیان کر رہی ہے۔

(۶)

حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ اے اسماء جب عورت بالغہ ہو جائے تو یہ جائز نہیں کہ مرد اس کے کسی عضو کو دیکھیں سوا اس کے۔ اور حضور  ﷺ نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا کہ بس ان دونوں کو کھولنا جائز ہے۔   (رواہ ابودائود)

(۷)

ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کِیا گیا کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا کہ رسول اللہ  ﷺ نے مردانی شکل بنانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔   (رواہ ابودائود)

(۸)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور  ﷺ نے فرمایا کہ کسی عورت کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ اپنے شوہر کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو آنے دے۔ (طبرانی ٗ حاکم ٗ بیہقی)

نیز عورت کو شوہر کو مرضی کے خلاف باہر نکلنا بھی جائز نہیں اور اس بارے میں کسی کی اطاعت بھی جائز نہیں۔

(۹)

حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ عورتوں سے بغیر شوہروں کی اجازت کے بات چیت کی جائے۔  (طبرانی

(۱۰)

اور حسن بصری ؒ سے مرسلاً روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ عورتیں اپنے محرموں کے سوا اور مردوں سے بات نہ کریں۔  (رواہ ابن سعد

(۱۱)

حضرت عمار رضی اللہ عنہ بن یاسر سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ دیوث ٗ مردانی شکل بنانے والی عورتیں اور ہمیشہ شراب پینے والا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کِیا دیوث کسے کہتے ہیں؟ فرمایا کہ جس کو اس کی پرواہ نہ ہو کہ اس کی گھر والی عورتوں کے پاس کون آتا ہے۔ کون جاتا ہے۔  (طبرانی فی الکبیر

(۱۲)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ  ﷺ مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک عورت قبیلہ مزینہ کی زیب و زینت کے لباس میں (یعنی بنائو سنگھار کے ساتھ) مٹکتی ہوئی مسجد میں آئی۔تو رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو اپنی عورتوں کو زیب و زینت کے لباس پہن کر مسجد وغیرہ میں مٹکنے سے روکو۔ کیوں کہ بنی اسرائیل پر اس وقت تک لعنت نہیں کی گئی جب تک ان کی عورتوں نے زیب وزینت کا لباس پہن کر مٹکنا اختیار نہیں کِیا۔  (رواہ ابن ماحہ)

(۱۳)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے مرد کو  دو عورتوں کے درمیان چلنے سے منع فرمایا ہے (رواہ ابودائود ٗ ثبات الستور القول الصواب

(۱۴)

حضور  ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنی امت کے لئے عورتوں سے زیادہ خطرناک کوئی فتنہ نہیں سمجھتا۔  (الفیض الحسن)

ص۳۴۶ ،۳۴۷:

پر دے کے تیسرے یعنی اعلیٰ درجہ کے پردہ کا ثبوت:

(1)

وقرن فی            بیوتکن

اور بیبیو! تم اپنے گھروں میں رہا کرو۔

(2)

و اذا سالتموھن متا    عا فاسئلوھن من ورآء حجاب

ترجمہ:  اور جب تم عورتوں سے استعمال کے لئے کوئی چیز مانگو تو پردہ کی آڑ میں ہو کر مانگو۔

(3)

لا تخر جوھن من بیو     تھن و لا یخرجن   (الآیۃ)

اور عورتوں کو ان کے گھروں میں سے نہ نکالو اور نہ خود نکلیں۔

(4)

حدیث ٗ  قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ              وسلم (لام سلمۃ و میمونۃ) احتجبامنہ ای من ابن ام مکتوم فقلت یا رسول اللّٰہﷺ الیس ھو اعمی فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم افعمیا و ان انتما الستماتبصرانہ  (رواہ احمد و الترمذی و ابودائود)(مشکوٰۃ شریف ص ۲۶۹ باب         النظر الی المخطوبۃ)

ترجمہ:  رسول اللہ  ﷺ نے حضرت ام سلمہ و میمونہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ ان سے پردہ کرو یعنی عبداللہ بن ام مکتوم نابینا سے۔ حضرت اُم سلمہ ؓ  فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کِیا یا رسول اللہ  ﷺ وہ نابینا نہیں ہیں؟ ہم کو دیکھ نہیں سکتے تو حضور  ﷺ نے فرمایا کیا تم بھی اندھی ہو ٗ کیا تم اس کو نہیں دیکھتیں۔  (احمد ٗ ترمذی  ابودائود)

(ص ۳۰۱ پر لکھا ہے:

دیکھئے باوجود یکہ اس مقام پر خرابی کا کوئی قریب احتمال بھی نہ تھا کیونکہ ایک طرف ازواج مطہرات جو مُسلمانوں کی مائیں ہیں۔ دوسری طرف نیک صحابی پھر وہ بھی نابینا۔ لیکن اس پر بھی مزید احتیاط کے لئے یا امت کے تعلیم کے لئے آپ نے اپنی بیبیوں کو پردہ کرایا۔ تو جہاں پر ایسے موانع (رکاوٹیں) نہ ہوں وہاں پر کیوں نہ پردہ قابل اہتمام ہوگا۔   (اقوال الصواب فی مسئلۃ الحجاب))

(5)

المراۃ  عورۃ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان (رواہ لترمذی)

عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے (اور اس کے پیچھے لگتا ہے)  ترمذی

ان آیات وا حادیث میں پردہ کے تیسرے درجہ کا ذکر ہے (یعنی یہ کہ عورت دیوار یا پردہ کے پیچھے آڑ میں رہے کہ اس کے کپڑوں پر بھی اجنبی مردوں کی نظر نہ پڑے یہ اعلیٰ درجہ کا پردہ ہے۔  (ثبات الستورص ۱۲)

پردہ کی قسموں میں اصل پردہ تیسرے ہی درجہ کا ہے:

نقلی و عقلی مسلمہ ہے کہ احکام بعض اصلی ہوتے ہیں اور بعض عارضی ٗ اسی طرح پردہ کے دو درجے ہیں۔ ایک اصلی جوان آیات میں مذکور ہے

وقرن    فی بیوتکن (اے عورتو! اپنے گھروں میں رہا کرو)

اور

و اذا سالتمو   ھن متاعا  فاسئلوھن من وراء حجاب (جب عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی آڑ سے مانگو) (یہ پردہ کا حکم اصلی ہے جو تیسری قسم ہے)اور دوسرا درجہ عارضی ہے وہ یہ کہ ضرورت کے موقع پر اس (حکم اصلی) میں تخفیف کر دی گئی۔ اور یہ درجہ ان آیات میں مذکور ہے

یدنین علیھن من جلابیبھن الایۃ و غیر ذلک (امداد الفتاوی ص۱۹۵ ج ۴)

۔۔۔۔۔۔۔۔

اصلاح    خواتین  ط ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان

عورتوں  کے لئے بازار میں جانے کا شرعی حکم  ص۳۰۲

(سوال نمبر۲۳۳) مسلمان عورتوں کو بازار میں جانا شریعت میں حلال ہے یا حرام یا مکروہ ؟ شرعی ولیل کے ساتھ بیان کریں۔

الجواب

قال اللّٰہ تعا       لیٰ و لا تبر جن تبرج الجاھلیۃ الا ولیٰ( الایۃ)

و قال اللّٰہ تعالیٰ غیر متبر جات بزینۃ

وقال اللّٰہ تعالیٰ و لا یبدین  ز    ینتھن۔

اس سے معلوم ہوا کہ زینت کے ساتھ عورت کو بازار میں یا مجمع میں نکلنا یا کسی نا محرم کے سامنے آنا قطعاً حرام ہے۔ البتہ اگر کوئی ضروری حاجت ہواور ھیئتہ رثہ ویثاب بذلہ یعنی میلے کچیلے کپڑوں میں (بنائو سنگار کئے بغیر) پردہ کرکے نکلے تو جائز ہے۔

لقولہ تعالی               ٰ یدنین علیھن من جلا بیبھن    و لقولہ تعالیٰ الا ما ظھر منھا ۔

(امداد الفتا ویٰ ۴:۱۹۷ص ۴:  ۱۲۴)

عورت کو ضرورت کے وقت منہ ڈھانک کر خواہ تنہا یا کسی محرم یا ثقہ (معتبرہ) عورت کے ساتھ محارم (رشتہ دار) سے ملنے کے واسطے اور دیگر حوائج ضروریہ (ضروریات) کے واسطے گھر سے نکلنا  جائز ہے مگر سفر کرنا بغیر محرم کے جائز نہیں۔  (امدادالفتاویٰ  ص ۱۱۹)

۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Facebook Comments