نصو ص قرآن کریم میں صحابہ کرام کا خصوصی مقام

 

نصو ص قرآن کریم

1

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔

تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے (نفع اور اصلاح) کے لئے پیدا کی گئی ہے۔

2

و کذلک جَعلناکم امۃ و سطالتکونوا شھداء علی الناس۔

اور ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنا دیا ہے جو (ہر پہلو سے) نہایت اعتدال پر ہے تاکہ تم (مخالف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو۔

ان دونوں آیتوں کے اصل مخاطب اور پہلے مصداق صحابہ کرام میں جاتی امت بھی اپنے اپنے عمل کے مطابق اس میں داخل ہو سکتی ہے لیکن صحابہ کرام کا ان دونوں آیتوں کا صحیح مصداق ہونا باتفاق مفسرین و محدثین ثابت ہے۔ ان میں صحابہ کرام کا نبی کریم  ﷺ کے بعد تمام انسانوں سے افضل و اعلیٰ اور عدل و ثقہ ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔ ذکرہ ابن عبدالبرفی مقدمتہ الاستیعاب اور علامہ سفارینی نے شرح عقیدۃ الدرۃ المضیۂ میں اس کو جمہور امت کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاء کے بعد صحابہ کرام افضل الخلائق ہیں۔

ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہ سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز ان دونوں میں کون افضل ہے تو اُنہوں نے فرمایا

لا نعدل باصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم احدًا۔ (الروضۃ الندیہ شرح العقید الواسطیہ لا بن تیمیہ ص ۴۵

یعنی ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے افضل ہونا کجا۔

3

محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم تراھم رکعا سجدا یتبغون فضلا من اللہ و رضوانا سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود الآیۃ۔

محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں اور کبھی سجدہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کی جستجو میں لگے ہیں ان کے آثار بوجہ تاثیر سجدہ ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

عام مفسرین امام قرطبی وغیرہ نے فرمایا کہ والذین معہ عام ہے اس میں تمام صحابہ کرام کی پوری جماعت داخل ہے اورا س میں تمام صحابہ کرام کی تعدیل ان کا تذکیہ اور ان پر مدح ٗ و ثنا خود مالک کائنات کی طرف سے آتی ہے۔

ابوعروہ زبیری کہتے ہیں کہ ہم ایک روز حضرت امام مالکؒ کی مجلس میں تھے لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو بعض صحابہ کرام کو بُرا کہتا تھا امام مالک نے یہ آیت لیغیظ بھم الکفار تک تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ جس شخص کے دل میں رسول اللہ  ﷺ کے صحابہ میں کسی کے متعلق غلیظ ہو وہ اس آیت کی زد میں ہے۔ یعنی اس کا ایمان خطرہ میں ہے کیونکہ آیت میں کسی صحابہ سے غیظ کفار کی علامت قرار دی گئی ہے۔

والذین آمنوا معہ میں تمام صحابہ کرام کی جماعت بلاکسی استثناء کے داخل ہے۔

4

یوم لایخزی اللہ النبی والذین آمنوا معہ۔

جس دن کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور جو مسلمان (دین کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔

5

و السابقون الاولون من المھاجرین و الانصار و الذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم و رضواعنہ و اعدلھم جنت تجری تحتھا الانھر الآیۃ۔

اور جو مہاجرین اور انصار  (ایمان لانے میں سب سے ) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس (اللہ) سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔

اس میں صحابہ کرام کے دو طبقے بیان فرمائے ہیں ایک سابقین اولین کا دوسرے بعد میں ایمان لانے والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں ٗ ان کے جنت کا مقام مقرر ہے ٗ جس میں تمام صحابہ کرام داخل ہیں۔مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کون لوگ ہیں اس کی تفسیر میں ابن کثیر نے تفسیر میں اور ابن عبدالبر نے مقدمہ استیعاب میں سندوں کے ساتھ دونوں قول نقل کئے ہیں ایک یہ کہ سابقین اوّلین وہ حضرات ہیں جنہوں نے رسول اللہ  ﷺ کی ساتھ دونوں قبلوں یعنی بیت اللہ اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی ہو۔ یہ قول ابوموسیٰ اشعری سعید بن مسیب ٗ ابن سیرین۔ حسن بصری کا ہے( ابن کثیر) اس کا حاصل یہ ہے کہ تحویل قبلہ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف جو ہجرت کے دوسرے سال میں ہوئی ہے اس سے پہلے جو لوگ مشرف با سلام ہو کر شرف صحابیت حاصل کر چکے ہیں وہ سابقین اولین ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ جو لوگ بیعت رضوان یعنی واقعہ حدیبیہ واقع ۶ھ میں شریک ہوئے ہیں وہ سابقین اوّلین میں سے ہیں۔ یہ قول امام شعبی سے روایت کیا گیا ہے۔ ابن کثیر۔ استیعاب

قرآن کریم نے واقعہ حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کے متعلق عام اعلان فرمایا ہے۔ لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذیبَا یعونک تحت الشجرۃ اسی لئے اس بیعت کا نام بیعت رضوان رکھا گیا ہے اور حدیث میں حضرت جابربن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا

لا یدخل الناراحد ممن بایع تحت الشجر ٗ (ابن عبدالبربسندہ فی الاستیعاب

نہیں داخل ہوگا جہنم میں کوئی شخص جس نے درخت کے نیچے بیعت کی ہے۔

بہرحال سابقین اولین خواہ قبلتین کی طرف نماز میں شریک ہونے والے ہوں یا بیعت رضوان کے شرکاء ان کے بعد بھی صحابیت کا شرف حاصل کرنے والے تمام صحابہ کرام کو حق تعالیٰ نے والذین اتبعوھم باحسان میں داخل کرکے شامل فرمایا اور سب کے لئے اپنی رضاء کامل اور جنت کی ابدی نعمت کا وعدہ اور اعلان فرمادِیا۔

ابن کثیر اس کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں

یا ویل من ابغضھم او سبَّھم اوسبّ بعضھم (الی قولہ) فاین ھولآء من الایمان بالقرآن اذیسبون من رضی اللہ عنھم۔ (ابن کثیر

عذاب الیم ہے ان لوگوں کے لئے جوان حضرات سے یا ان میں بعض سے بعض رکھے یا ان کو بُرا کہے ایسے لوگوں کو ایمان بالقرآن سے کیا واسطہ جو ان لوگوں کو بُرا کہتے ہیں جن سے اللہ نے راضی ہونے کا اعلان کر دِیا۔

اور ابن عبدالبر مقدمہ استیعاب میں یہی آیت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں

و من رضی اللہ عنہ لم یسخط علیہ ابداً ان شاء اللہ تعالیٰ۔

یعنی اللہ جس سے راضی ہو گیا پھر اس سے کبھی ناراض نہیں ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو سب اگلی پچھلی چیزوں کا عِلم ہے وہ راضی اسی شخص سے ہو سکتے ہیں جو آئندہ زمانے میں بھی رضاء کے خلاف کام کرنے والا نہیں ہے اس لئے کسی کے واسطے رضاء الٰہی کا اعلان اس کی ضمانت ہے کہ اس کا خاتمہ اور انجام بھی اسی حالت صالحہ پر ہوگا اس سے رضاء الٰہی کے خلاف کوئی کام آئندہ بھی نہ ہوگا۔ یہی مضمون حافظ ابن تیمیہؒ نے شرح عقیدہ واسطیہ میں او رسفارینی  ؒ نے شرح درہ مضیہ میں بھی لکھا ہے ٗ اس سے ان ملحدین کے شبہ کا ازالہ خودبخود ہو گیا جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کے یہ اعلانات اس وقت کے ہیں جبکہ ان کے حالات درست تھے ٗ بعد میں معاذ اللہ ان کے حالات خراب ہو گئے اس لئے وہ اس انعام و اکرام کے مستحق نہیں رہے نعوذ باللہ منہ ٗ کیونکہ اس سے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شروع میں بوجہ انجام سے بے خبری کے راضی ہو گئے تھے ٗ بعد میں یہ حکم بدل گیا۔ نعوذ باللہ منہ ٗ

یہاں پہنچ کر شاید کسی کو حدیث اِنّی فوطکم علی الحوض سے شبہ ہو ٗ جس میں یہ ہے کہ

لیرون علی اقوام اعرفھم و یعرفوننی ثم یحال بینی و بینھم ٗ و فی روایۃ فأقول اصحابی فیقول لاتدری مَا احد ثوابعدک …(بخاری باب الحوض

ظاہرالفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں بعض اصحاب رسول اللہ  ﷺ  حوض پر پہنچیں گے تو ان کو وہاں سے ہٹا دِیا جائے گا ٗ گوحدیث کی شرح میں شراحِ حدیث نے طویل کلام کیا ہے اور جن لوگوں کے بارے میں یہ روایت ہے ان کا مصداق متعین کرنے میں کئی اقوال منقول ہیں مگر ہمارے نزدیک تمام روایات کو دیکھ کر اور حضرات صحابہ  کے بارے میں قرآن وحدیث میں جو فضائل دارد ہوئے ہیں  ان کو سامنے رکھ کر امام نودی کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے ٗ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ ٗ متعدد اقوال کے ذیل میں لکھتے ہیں

وقال النووی:  ھم المنافقون و المرقدون فیجوز ان یحشروا بالغرۃ و التحجیل لکونھم من جملۃ الامۃ فیناد یھم من اجل الیسما التی علیھم فقال انھم بَدَّ لوابعدک ای لم یموتوا علی ظاہر مَا فارقتھم علیہ قال عیاض و غیرہ ٗ و علیٰ ھٰذا فیذھب عنھم العزۃ و التحجیل ولیطفاء نودھم۔ فتح الباری ۔

امام نودیؒ نے فرمایا:  کہ اس حدیث کا مصداق منافقین ہیں اور وہ لوگ جو (دِل سے زمانہ نبوت میں بھی مُسلمان نہ تھے بلکہ ظاہراً اسلام کے نام کو اپنائے ہوئے تھے)  وفات نبوی  ﷺ کے بعد ظاہری اسلام سے پھر گئے ٗ چونکہ یہ لوگ بھی مُسلمانوں کے ساتھ دکھاوے کا وضو کرتے تھے اور نماز میں آتے تھے اس لئے ان کے ہاتھ پائوں بھی وضو کے اثر سے سفید ہوں گے ٗ ان کی اس علامت کی وجہ سے سَرور عالم  ﷺ پکاریں گے ٗ لیکن جواب دیا جائے گا کہ انہوں نے آپ کے بعد حالت بدل دی تھی یعنی جس حال پر آپ نے ان کو چھوڑا تھا۔ اس حالت پر ( بھی) باقی نہ رہے اور کھلے کافر ہو گئے ٗ جوان کے ظاہری دعوائے اسلام کے اعتبار سے ارتداد تھا۔

ہمارے نزدیک یہ قول اس لئے صحیح ہے کہ آیت قرآنیہ

یوم یقول المنفقون و المنفقت للذین آمنوا انظرونا نقتبس من نورکم قیل ارجعوا ورائکم فالتمسوا نوراً ٗ سورۃ الحدید

جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کر لو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں۔ ان کو جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پچھے لوٹ جائو پھر (وہاں سے) روشنی تلاش کرو۔

کے موافق ہے۔ آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ابتداًء روز قیامت میں منافقین مومنین کے ساتھ لگ جائیں گے ٗ بعد میں علیحدگی ہو جائے گی لفظ ارتدواجو حدیث بالا کی بعض روایات میں آیا ہے اس کا مطلب بعض لوگوں نے یہ لیا ہے کہ رسول اللہ  ﷺ کے بعد کچھ لوگ مرتد ہو گئے تھے (العیاذ باللہ

لیکن ہمارے نزدیک حق بات یہ ہے کہ اگر ارتداد سے ارتدادعن الاسلام ہی مراد ہو تب بھی اس سے وہ اعراب مراد ہیں جنہوں نے اسلام کی رو سے آکر زبان سے یوں کہ دیا تھا کہ ہم مُسلمان ہیں اور صحیح معنی ہیں اُن کے دِل میں اِسلام جاگزیں نہ ہوا تھا جس کو قرآن میں اس طرح ذکر فرمایا

قالت الأعراب اٰمنا قل لم تؤمنو اولکن قولوا اسلمنا و لمّا یدخل الایمان فی قلوبکم۔ (سُورۃ الحجرات

یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ٗآپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن یوں کہو کہ ہم مخالفت چھوڑ کر مطیع ہو گئے اور ابھی تک ایمان تمہارے دِلوں میں داخل نہیں ہوا۔

حافظ خطابی  ؒ نے کیسی اچھی بات لکھی ہے۔

لم یرتد من الصحابۃ احد ٗ و انما ارتد قومٌ من جفاۃ الاعراب ممن لانصرۃ لہٗ فی الدین و ذٰلک لا یوجب قد حًا فی الصحَابۃ المشھودین ویدل قولہٗ اصیحابی بالتصغیر علی قلۃ عدوھم۔  (فتح الباری ج ۱۱ ص۳۲۴

حضرات صحابہ ؓ  میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا بعض گنوارا ٗ عرابی جن کا دین کی نصرت میں کوئی دخل نہیں رہا۔ (صرف زبان سے کلمہ پڑھ لیا) وہ حضرت صدیق اکبر کے زمانہ میں مرتد ہو گئے تھے ٗ اس سے مشہور صحابہ کرام کے بارہ میں کوئی شک و شبہ پیدا نہیں ہوتا اور خود حدیث کے الفاظ میں ان کو اصحابی کے بجائے اصیحابی ٗ بصیغۂ تصغیر لانا بھی اس طرف مثیر ہے۔

6

قل ھذہ      سبیلی ادعو إلی اللہ علی بصیرۃ اناومن اتبعنی۔

آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے ٗ میں اللہ کی طرف سے دعوت دیتا ہوں بصیرت کے ساتھ میں بھی اور جن لوگوں نے میرا ابتاع کیا وہ بھی۔

ظاہر ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب ہی رسول اللہ  ﷺ کے تابع و مبتع تھے ٗ سب اس میں داخل ہیں۔

7

قل الحمد للّٰہ وسلامٗ علی عبادہ الذین اصطفیٰ(مع قولہ تعالٰی) ثم اورثنا الکتاب الّذین اصطفینا من عبَادنا فمنھم ظالِمٌ لنفسہ و منھم مقتصد و منھم سابق بالخیرات باذِن اللہ ذلک ھو الفضل الکبیر۔  (سورہ فاطر

آپ کہہ دیجئے کہ حمد سب اللہ کے لئے ہے اور سلام ہے ان بندوں پر جن کو اللہ نے منتخب فرمایا ہے (اس کے ساتھ دوسری آیت میں ہے) پھر وارث بنا دیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا ٗ پھر بعض تو ان میں اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔ اور بعض ان میں متوسط درجہ کے ہیں ٗ اور بعض ان میں وہ ہیں جو خدا کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں ٗ یہ بڑا فضل ہے۔

اس آیت میں صحابہ کرام ؓ  کو ’’منتخب بندے‘‘ قرار دِیا گیا ہے آگے ان ہی کی ایک قسم یہ بھی قرار دی ہے کہ ’’ان میں بعض اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں‘‘ معلوم ہوا کہ اگر کسی صحابی سے کسی وقت کوئی گناہ ہوا بھی ہے تو وہ معاف کر دیا گیا ٗ ورنہ پھر ان کو ’’منتخب بندوں‘‘ کے ذیل میں ذکر نہ فرمایا جاتا۔

ظاہر ہے کہ کتاب یعنی قرآن کے پہلے وارث جن کو یہ کتاب ملی ہے ٗ صحابہ کرام ؓ ہیں اور نص قرآنی کی رو سے وہ اللہ کے منتخب بندے ہیں اور پہلی آیت میں ان منتخب بندوں پر اللہ کی طرف سے سلام آیا ہے ٗ اس طرح تمام صحابہ کرام اس سلام خداوندی میں شامل ہیں (کذاذکرہ السفادینی فی شرح الدرۃ المفیئہ

8

سورہ حشر میں حق تعالیٰ نے عہد رسالت کے تمام موجود اور آئندہ آنے والے مُسلمانوں کا تین طبقے کرکے ذکر کیا ہے۔

پہلا مہاجرین کا جن کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا

اولئک ھم الصادقون۔ یعنی یہی لوگ سچے ہیں۔

دوسرا انصار کا ٗ جن کی صفات و فضائل ذکر کرنے کے بعد قرآن کریم نے فرمایا

اولئک ھم المفلحون یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو مہاجرین و انصار کے بعد قیامت تک آنے والا ہے ٗ ان کے بارے میں فرمایا

والذین جاء و امن بعدھم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان و لا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا

اور وہ لوگ جو بعد میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ اے ہمارے پروردگار ہماری بھی مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دِلوں میں ایمان لانے والوں سے کوئی بغض نہ کرنا۔

اس آیت کی تفیسر میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب مہاجرین و انصار صحابہ کے لئے استغفار کرنے کا حکم سب مُسلمانوں کو دیا ہے اور یہ حکم اس حال میں دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے باہم جنگ و مقاتلہ بھی ہوگا۔ علماء نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے بعد اسلام میں اس شخص کا کوئی مقام نہیں جو صحابہ کرام سے محبت نہ رکھے اور ان کے لئے دُعا نہ کرے۔

9

ولکن اللہ حبب الیکم الایمان و زینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفرو الفسوق و العصیان اولئک ھم الراشدون فضلاً من اللہ و نعمۃ و اللہ علیم حکیم (سورئہ حجرات

لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لئے محبو ب کر دِیا۔ اور اس کو تمہارے دِلوں میں مزین بنا دیا اور کفر فسق اور نافرمانی کو تمہارے لئے مکروہ بنادِیا ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور نعمت سے ہدایت یافتہ ہیں ٗ اور اللہ خوب جاننے والا ٗ حکمت والا ہے۔

اس آیت میں بھی بلااستنثاء تمام صحابہ کرامؓ کے لئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے ان کے دِلوں میں ایمان کی محبت اور کفر وفسق اور گناہوں کی نفرت ڈال دی ہے۔

اس جگہ فضائل صحابہ کی سب آیات کا استیعاب پیش نظر نہیں۔ ان کے مقام اور درجہ کو ثابت کرنے کے لئے ایک دو آیتیں بھی کافی ہیں جن سے ان کا مقبول عنداللہ ہو نا اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا اور ابدی جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہونا ثابت ہے۔

یہاں یہ بات پھر سامنے رکھنا چاہیے کہ یہ ارشادات اس ذات حق کے ہیں جو سب کو پیدا کرنے والا اور پیدائش سے پہلے ہر انسان کے ایک ایک سانس ایک ایک قدم سے اور اچھے بُرے عمل سے واقف ہے جو اس شخص سے وقوع میں آئیں گے۔ اس نے صحابہ کرام کے معاملے میں جو اپنی رضا کامل اور جنت کی بشارت دی ہے ٗ ان سب واقعات و معاملات کو جانتے ہوئے دی ہے جو انہیں سے ہر ایک کو عہد ورسالت میں یا اس کے بعد پیش آنے والے تھے۔

حافظ ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب الصارم المصلول علی شاتم الرسول میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی بندہ سے راضی ہوسکتے ہیں جس کے بارے میں اس کو معلوم ہے کہ وہ آخر عمر تک موجبات رضاء کو پورا کرے گا اور جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے تو پھر کبھی اس سے ناراض نہیں ہوتا۔

 

Facebook Comments