قربانی کی کھال کا مصرف

 

قربانی کی کھال کا مصرف

چاہے تو کھال خود رکھ لے، اس کا مشکیزہ، ڈول، موزے،  جوتے، دسترخوان، مصلی بنا لے، چاہے تو کسی کو بھی بلا معاوضہ تحفہ دے دے، اگر بیچا تو قربانی کی کھال کی رقم مسجد کی تعمیر و مرمت یا کسی اور نیک کام میں لگانا درست نہیں،  صدقہ کرے۔قربانی کی کھال کی قیمت ایسے لوگوں کو دے جن کو زکوۃ دینا درست ہو۔ قربانی کے جانور کی رسی جھول وغیرہ سب صدقہ کردے۔کھال، گوشت، چھیچھڑے ،چربی قصائی کو اجرت میں نہ دے بلکہ اجرت اپنے پاس سے علیحدہ دے

قربانی کی کھال  کی رقم اور زکوۃ وصدقات واجبہ میں کسی مستحق زکوۃ کو مالک بنانا(تملیک) شرط ہے آجکل بہت سی این جی اوز سیکولر ادارے اور بے دین حضرات کے ادارے انسانی ہمدردی اور ہسپتالوں وغیرہ کے نام سے زکوۃ صدقات واجبہ قربانی کی کھالیں وغیرہ لیتے ہیں اور بغیر تملیک کے استعمال میں لاتے ہیں اس طرح زکوۃ وغیرہ ادا نہیں ہوتی۔یاد رکھیں کہ قربانی کی کھال و زکوۃ و صدقہ واجبہ کی رقم سے مسجد مدرسہ ہسپتال کنواں پل لٹریچرمیت کا کفن دفن قرآن  و دینی کتب کی طباعت یا کسی تعمیری کام میں بغیر تملیک کے خرچ کرنا جائز نہیں ،لہذا ایسے ادارے جو شرعی طریقہ سے مال خرچ نہ کریں انکو کسی بھی مد میں تعاون کرنا جائز نہیں اپنی عبادت کو گناہ میں مت بدلیں

 

Facebook Comments