ریاکاری کی مذمت

 

ریاکاری کی مذمت

آیات

-1

اے ایمان والو! تم احسان جتلا کر یا ایذاء پہنچا کر اپنی خیرات وصدقہ کو بربادمت کرو جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھلانے کی غرض سے اور ایمان نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ پر اور یوم قیامت پر سو اس شخص کی حالت ایسی ہے جیسے ایک پتھر جس پر کچھ مٹی ہو پھر اس پر زور کی بارش پڑجائے سو اس کو بالکل صاف کردے ،ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی۔اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو راستہ نہ بتلاویں گے۔(بیان القرآن

-2

سو ہلاکت ہے ایسے نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز بھلا بیٹھے ہیں ،جو ایسے ہیں کہ ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰۃ بالکل نہیں دیتے۔ (بیان القرآن

-3

اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں صرف آدمیوں کو دکھلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی نہیں کرتے مگر بہت ہی مختصر۔(بیان القرآن

احادیث

-1

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا:’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کوئی آدمی غنیمت کے لئے لڑتا ہے ،کوئی آدمی اپنی بہادری دکھانے کے لئے لڑتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنے والا کون ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اس لئے لڑے تا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم بلند ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔(بخاری

-2

حضرت محمود بن لبیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس چیز کے بارے میں مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف ہے وہ شرک اصغر ہے۔‘‘صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !شرک اصغر کیا ہے …؟ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دکھاوا! بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے : جائو ان لوگوں کے پاس جن کو دکھانے کے لئے تم لوگ دنیا میں عمل کرتے تھے ،پھر دیکھوکیا تم ان کے پاس سے کوئی بدلہ پاتے ہو۔‘‘ (مسند احمد

-3

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے دکھانے کے لئے نماز پڑھی تو تحقیق اس نے شرک کیا، اور جس نے دکھاوے کے لئے روزہ رکھا اس نے بھی شرک کیا اور جس نے بغرض ریا صدقہ کیا تو اس نے بھی شرک کیا۔(مسنداحمد

-4

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں ،جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں میرے سوا کسی اور کو شریک ٹھہرائے میں اسے بھی اور اس شرک کو بھی چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم

آثارواقوال

-1

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صاحب کو دیکھا جوگردن جھکائے ہوئے جارہے تھے، آپ نے فرمایا؛ ’’اوگردن جھکانے والے! اپنی گردن اٹھائو ،خشوع اور عاجزی گردنوں میں نہیں بلکہ دلوں میں ہوتی ہے۔(احیاء العلوم

-2

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ریا کاری کی تین علامات ہیں :جب تنہائی میں ہوتا ہے تو (عبادت میں )سستی کرتا ہے ،جب مجمع میں ہوتا ہے تو چست ہوتا ہے، جب اس کی تعریف کی جائے تو زیادہ عمل کرتا ہے اور جب مذمت کی جائے تو کم عمل کرتا ہے۔

(احیاء العلوم )

-3

حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :ماضی کے ریاکار اس عمل کا دکھاوا کرتے تھے جو وہ کرتے تھے اور آج کے ریا کار ایسے اعمال کا دکھاوا کرتے ہیں جو کرتے ہی نہیں۔ (احیاء العلوم

-4

اعمش رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ ا للہ تعالیٰ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے ،اگر کوئی ملاقاتی آجاتا تو بستر پر لیٹ جاتے۔(نزھۃا لفضلاء

-5

ابنِ اعرابی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ خسارے میں وہ شخص ہے جو لوگوں کے سامنے اپنے نیک اعمال ظاہر کرتا ہے اور وہ ذات جو رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے اس کے سامنے برے اعمال کرتاہے۔ (مختصرشعب الایمان

ریاکاری کے نقصان

-1

ریا سے اعمال باطل ہوجاتے ہیںاور ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔

-2

ریاکار پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے۔

-3

ریا ان اسباب ہلاکت میں سے ہے جو انتہائی مہلک ہیں۔

-4

ریا کاری انتہائی جہالت کی دلیل ہے جو مخلوق سے صلہ اور بدلہ کی امید رکھتا ہے۔

-5

ریا کی وجہ سے فقر پیداہوتا ہے اور ایسے شخص کو فتنے گھیر لیتے ہیں۔

-6

ریا کار کو قیامت کے دن سارے انسانوں کے سامنے رسوا کیا جائے گا۔

-7

وہ قاری اور عالم جو ریا کار ہوں گے انہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا اور انہیں جہنم کی ایک مخصوص وادی ’’وادیٔ حزن‘‘ میں ڈال دیا جائے گا۔

-8

اللہ تعالیٰ ریا کا ر کے عیوب ساری دنیا کے سامنے کھول دیتے ہیں۔

-9

ریا کار بالآخر لوگو ں کی نظر سے گرجاتا ہے اور اس کا وقار ختم ہوجاتا ہے۔

 

Facebook Comments