صحابہ کرام مغفور و مقبول ہیں

 

صحابہ کرام معصوم نہیں ٗ مگر مغفور و مقبول ہیں

سب حضرات کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ صحابہ کرام انبیاء کی طرح معصوم نہیں ان سے خطائیں اور گناہ سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں۔ جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدود اور سزائیں جاری فرمائی ہیں احادیث نبویہ ہیں یہ سب واقعات ناقابل انکار ہیں۔ مگر اس کے باوجود عام افراد امت سے صحابہ کرام کو پچند وجودہ خاص امتیاز حاصل ہے۔

1

اول یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے حق تعالیٰ نے ان کو ایسا بنا دیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی خلاف شرع کوئی کام یا گناہ ان سے صادر ہونا انتہائی شاذونادر تھا۔ ان کے اعمال صالحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام پر اپنی جانیں اور مال واولاد سب کو قربان کرنا اور ہر کام پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضیات کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لئے ایسے مجاہدات کرنا جس کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی ٗ ان بے شمار اعمال صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلہ میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہو جانا اس کوخود ہی کا لعدم کر دیتا ہے۔

2

دوسرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عظمت اور ادنیٰ گناہ کے صدور کے وقت ان کا خوف و خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا جاری کرنے کے لئے پیش کر دینا اور اس پر اصرار کرنا روایات و حدیث میں معروف و مشہور ہیں۔ بحکم حدیث توبہ کر لینے سے گناہ مٹا دیا جاتا ہے اور ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔

3

قرآنی ارشاد کے مطابق انسان کی حسنات بھی اس کی سیئات کا خود بخود کفارہ ہو جاتی ہے۔

ان الحسنات یذھبن السیئات

4

اقامت دین اور نصرت اسلام کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی عسرت وتنگدستی اور مشقت ومحنت کے ساتھ ایسے معرکے سرانجام دینا کہ اقوام عالم میں ان کی نظیر نہیں۔

5

ان حضرات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان واسطہ اور رابطہ ہونا کہ باقی امت کو قرآن وحدیث اور دین کی تمام تعلیمات اُنہیں حضرات کے ذریعہ پہونچی ان میں خامی وکوتا ہی رہتی تو قیامت تک دین کی حفاظت اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں اشاعت کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اس لئے حق تعالیٰ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کے اخلاق و عادات ان کے حرکات وسکنات کو دین کے تابع بنا دیا تھا ان سے اول تو گناہ صادر ہی نہ ہوتا تھا اور اگر عمر بھر میں کبھی شاذونا درکسی گناہ کا صدور ہو گیا تو فوراً اس کا کفارہ توبہ واستغفار اور دین کے معاملہ میں پہلے زیادہ محنت و مشقت اٹھا کر کر دینا ان میں معروف و مشہور تھا۔

6

حق تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت کے لئے منتخب فرمایا اور دین کا واسطہ اور رابطہ بنایا تو ان کو یہ خصوصی اعزاز بھی عطا فرمایا کہ اسی دُنیا میں ان سب حضرات کی خطائوں سے درگذر اور معافی اور اپنی رضاء ورضوان کا اعلان کر دیا اور ان کے لئے جنت کا وعدہ قرآن میں نازل فرما دیا۔

7

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ہدایت فرمائی کہ ان سب حضرات سے محبت وعظمت علامت ایمان ہے اور ان کی تنقیص و توہین خطرہ ایمان۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء کا سبب ہے۔

یہ وجود ہیں جن کی بناء پر ان کے معصوم ہونے اور شاذونادر گناہ کے صدور کے باوجود ان کے متعلق امت کا یہ عقیدہ قرار پایا کہ ان کی طرف کسی عیب وگناہ کی نسبت نہ کریں ٗ ان کی تنقیص و توہین کے شائبہ سے بھی گریز کریں ان کے درمیان جو باہمی اختلافات اور مقاتلہ تک کی نوبت آئی ان مشاجرات میں اگرچہ ایک فریق خطاء پر دوسرا حق پر تھا۔ اور علماء امت کے اجماع نے ان مشاجرات میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا حق پر ہونا اور ان کے بالمقابل جنگ کرنے والوں کا خطاء پر ہونا پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ٗ لیکن ساتھ ہی قرآن و سنت کی نصوص مذکورہ کی بناء پر اس پر بھی سب کا اجماع و اتفاق ہوا کہ جو فریق خطاء پر بھی تھا اس کی خطاء بھی اولاً اجتہادی تھی جو گناہ نہیں بلکہ اس پر ایک اجر ملنے کا وعدہ حدیث صحیح میں مذکورہ ہے اور اگر قتل وقتال اور جنگ کے ہنگاموں میں کسی سے واقعی کوئی نعزش اورگناہ ہوا بھی ہے تو وہ اس پر نادم وتائب ہوئے ۔ جیسا کہ اکثر حضرات سے ایسے کلمات منقول ہیں

خصوصاً جبکہ قرآن کریم نے ان کی مدح و ثناء اور ان سے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کا بھی اعلان فرما دیا۔ جو عفوودرگذر سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے

جن حضرات کے اتفاقی گناہوں اور خطائوں کو بھی حق تعالیٰ معاف کر چکا تو اب کسی کو کیا حق ہے۔ کہ ان گناہوں اور خطائوں کا تذکرہ کرکے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرے اور اس مقدس گروہ پر امت کے اعتقاد دواعتماد میں خلل ڈال کر دین کی بنیادوں پر ضرب لگائے اس سے سلف صالحین نے عموماً ان معاملات میں کف لسان اور سکوت کو ایمان کی سلامتی کا ذریعہ قرار دیا۔ باہمی حروب کے درمیان ہر فریق کے حضرات کی طرف جو باتیں قابل اعتراض منسوب کی گئیں ہیں۔ ان کے بارے میں وہ طریقہ اختیار کیا جو عقیدہ واسطیہ کے حوالہ سے اُوپر نقل کیا گیا ہے کہ

ان قابل اعتراض باتوں کا بیشتر حصہ تو کذب و افتراء ہے جو روافض وخوارج اور منافقین کی روایتوں سے تاریخ میں درج ہو گیا ہے اور جو کچھ صحیح بھی ہے تو وہ بھی گناہ اس لئے نہیں کہ اس کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے جائز بلکہ دین کے لئے ضروری سمجھ کر اختیار کیا ٗ اگرچہ وہ اجتہاد ان کا غلط ہی ہو مگر پھر بھی گناہ نہیں۔ اور اگر کسی خاص معاملے میں یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ خطاء اجتہادی ہی نہیں ٗ واقعی گناہ کی بات ہے۔ تو ظاہر ان حضرات کے خوف خداوفکر آخرت سے یہ ہے کہ انہوں نے اس سے توبہ کر لی خواہ اس کا اعلان نہ ہوا ہو۔ اور لوگوں کے علم میں نہو اور بالفرض یہ بھی نہ ہو تو ان کے حسنات اور دین کی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ ان کی وجہ سے معافی ہو جانا قریب بلیقین ہے۔

البتہ بعض حضرات نے روافض و خوارج اور منافقین کی شائع کردہ روایات سے عوام میں پھیلنے والی غلط فہمی دور کرنے کے لئے مشاجرات صحابہ میں کلام کیا ہے۔ جو اپنی جگہ صحیح ہے مگر پھر بھی وہ ایک مزلتہ الاقدام ہے ٗ جس سے صحیح سالم نکل آنا آسان کام نہیں ہے۔ اس لئے جمہور امت اور اتقیاء سلف نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔

 

Facebook Comments