صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب گناھوں کی ایک اھم وجہ

 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے منسوب گناھوں کی ایک اھم وجہ

اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ بطور نبی و رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی کہ شریعت کی مکمل تعلیمات کو امت تک پہنچائیں۔ لیکن بعض عوارض اور حالات ایسے تھے جو نبی کے شایان شان نہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا صدور کروایا جاتا۔ لہذا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اللہ تعالی نے اس کام کے لئے منتخب کیا۔ اور ان سے ان عوارض و گناھوں کا صدور ھوا جن پر احکامات کی تعلیم دی گئی یا تشریح کی گئی تاکہ امت کو تمام احکامات تفصیل سے مل سکیں ۔ چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس مقصد کے لئے اللہ تعالی نے چنا تھا لہذا اللہ تعالی نے ان کو توبہ و استغفار کی توفیق بھی عنایت فرمائی اور ان کی مغفرت کا اعلان بھی فرمایا۔  اعلان  اللہ تعالی نے خود بھی قرآن میں فرمایا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بھی بشارت سنوائی۔ یہ آیات و احادیث اسی سیکشن کی کیٹگری شان صحابہ میں ملاحظہ فرمائیں ۔

مثال

ایک صحابی سے زنا کا گناہ سرزد ھوا تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ ۔ چناچہ امت کے سامنے زنا کے مقدمہ میں فیصلہ کرنے کے مراحل کی تفصیلات آئیں۔ ان صحابی کو سنگسار کردیا گیا۔ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ

مفھوم: اس نے جیسی توبہ کی ھے اگر تمام اھل مدینہ پر تقسیم کر دی جائے تو سب کی مغفرت ھو جائے

لہذا گناہ کے ساتھ توبہ کی توفیق بھی ھوئی اور قبولیت کا بھی اعلان ھوا۔

رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ

کا تمغہ و سند سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دی گئی ھے۔

فقط واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

 

Facebook Comments