سیرت

 

سیرت

حضرت ابوبکر  جوانی کے زمانے میں بھی نہایت شریف اور خوش اخلاق تھے ۔ ایک خوش حال گھرانے میں پیدا ہونے کے باعث اُس زمانے کے علُوم و فنون سے خوب واقف تھے۔ وہ شاعری میں بھی پُوری مہارت رکھتے تھے۔ چنانچہ قبولِ اسلام کے بعد کا کلام اب بھی موجود ہے۔ خصوصاً آپ کی لکھی ہوئی مُناجات تو بے حد مقبول ہے۔ محتاجوں اور غریبوں سے آپ ہمیشہ شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے اور اپنی نیک عادات کے باعث اپنی قوم میں بہت ہر دِلعزیز تھے۔

حضرت ابوبکر   کی عقل مندی اور انصاف پسندی کے باعث مکہ کے رہنے والے اکثر اہم معاملات میں آپ ہی سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ قبیلہ قریش میں اگر کوئی قتل ہو جاتا تو اُس کے خُوں بہا کا فیصلہ حضرت ابوبکر ؓ ہی کرتے۔ اگر ملزم فوراً خوں بہاکی رقم ادا نہ کر سکتا تو آپ اُس کی مہلت دے کر ضامن بن جاتے۔ جس سے فریقِ مخالف مطمئن ہو جاتا۔

تجارت عرب میں ریاست ٗ دولت مندی اور عزت کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ حضرت ابوبکر ؓ  بھی گِنتی کے اُن لوگوں میں تھے  جو تاجر کی حیثیت سے بھی ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ آپ کئی مرتبہ تجارت کا مال لے کر شام اور یمن کے مُلکوں میں گئے۔

 

Facebook Comments