شیخ کے حقوق

 

شیخ کے حقوق

یہ تمام آداب وحقوق شیخ کامل کے ہیں جس کی علامات لکھی جا چکی ھیں۔

-1

شیخ کے پاس مسواک کرکے صاف کپڑے پہن کر جائے۔

-2

ادب کے ساتھ پیش آئے۔

-3

نگاہِ حرمت وتعظیم سے اس پر نظر کرے۔

-4

جو بتلادے اس کو خوب توجہ سے سنے۔

-5

اس کوخوب یاد رکھے۔

-6

جو بات سمجھ میں نہ آئے اپنا قصور سمجھے۔

-7

اس کے روبرو کسی اور کا قولِ مخالف ذکر نہ کرے۔

-8

اگر کوئی پیر کو برا کہے حتی الوسع اس کا دفعیہ کرے، ورنہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہو۔

-9

جب حلقہ کے قریب پہنچے، سب حاضرین کو سلام کرے، پھر پیر کو بالخصوص سلام کرے۔ لیکن وہ تقریر وغیرہ میں مشغول ہوں تو اس وقت سلام نہ کرے۔

-10

پیر کے روبرو بہت نہ ہنسے نہ بہت باتیں کرے۔ ادھر ادھر نہ دیکھے نہ کسی اور کی طرف متوجہ ہو، بالکل پیر کی طرف متوجہ رہے۔

-11

حالتِ بُعد وغَیبت میں اس کے حقوق کا خیال رکھے۔

-12

گاہ گاہ تحفہ تحائف خط وکتابت سے پیر کا دل خوش کرتا رہے۔

-13

یہ اعتقاد کرلے کہ میرا مطلب اسی مرشد سے حاصل ہوگا اور اگر دوسری طرف توجہ کرے گا تو مرشد کے فیض وبرکات سے محروم رہے گا۔

-14

ہر طرح مرشد کا مطیع ہو اور جان ومال سے اس کی خدمت کرے کیونکہ بغیر محبت پیر کے کچھ نہیں ہوتا اور محبت کی پہچان یہی ہے کہ مرشد جو کہے اس کو فوراً بجالائے اور بغیر اجازت اس کے خاص فعل کی اقتداء نہ کرے۔ کیونکہ بعض اوقات وہ اپنے حال اور مقام کے مناسب ایک کام کرتا ہے کہ مرید کے لئے اس کو کرنا زہر قاتل ہے۔

-15

جو درود وظیفہ مرشد تعلیم کرے اسی کو پڑھے باقی تمام وظیفہ چھوڑ دے، خواہ اس نے اپنی طرف سے انہیں پڑھنا شروع کیا ہو یا کسی دوسرے نے بتایا ہو۔

-16

مرشد کی موجودگی میں ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ رہنا چاہئے۔ یہاں تک کہ سوائے فرض وسنت کے نماز نفل اور کوئی وظیفہ بغیر اس کی اجازت کے نہ پڑھے۔

-17

حتی الامکان ایسی جگہ نہ کھڑا ہو کہ اس کا سایہ مرشد کے پائوں یا اس کے کپڑے پر پڑے۔

-18

اس کے مصلے پر پاؤںنہ رکھے۔

-19

اس کی طہارت اور وضو کی جگہ طہارت یا وضو نہ کرے۔ ہاں اجازت کے بعد مضایقہ نہیں۔

-20

اس کے سامنے نہ کھانا کھائے نہ پانی پئیے اور نہ وضو کرے۔ ہاں اجازت کے بعد مضایقہ نہیں۔

-21

اس کے روبرو کسی سے بات نہ کرے۔ بلکہ کسی طرف متوجہ بھی نہ ہو۔

-22

جس جگہ مرشد بیٹھتا ہو، اس طرف پیر نہ پھیلاوے اگر چہ سامنے نہ ہو۔

-23

جو کچھ مرشد کہے یا کرے اس پر اعتراض نہ کرے کیونکہ جو کچھ وہ کرتا ہے یا کہتا ہے الہام سے کرتا اور کہتا ہے۔ اگر کوئی بات سمجھ نہ آوے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ یاد کرے۔

-24

اپنے مرشد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔

-26

اگر کوئی شبہ دل میں گزرے فوراً عرض کرے اور اگر وہ شبہ حل نہ ہو تو اپنے فہم کا قصورسمجھے اور اگر مرشد اس کا کچھ جواب نہ دے تو جان لے کہ میں اس کے جواب کے لائق نہ تھا۔

-27

خواب میں جوکچھ دیکھے وہ مرشد سے عرض کرے اور اگر اس کی تعبیر ذہن میں آئے تو اسے بھی عرض کردے۔

-28

بے ضرورت اور بے اذن مرشد سے علیحدہ نہ ہو۔

-29

مرشد کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے اور بآوازِ بلند اس سے بات نہ کرے اور بقدرِ ضرورت مختصر کلام کرے اور نہایت توجہ سے جواب کا منتظرہے۔

-30

اور مرشد کے کلام کو دوسروں سے اس قدر بیان کرے جس قدر لوگ سمجھ سکیں اور جس بات کو یہ سمجھے کہ لوگ نہ سمجھ سکیں گے تو اسے بیان نہ کرے۔

-31

اور مرشد کے کلام کو رد نہ کرے، اگر چہ حق مرید ہی کی جانب ہو بلکہ یہ اعتقاد کرے کہ شیخ کی خطا میری صواب سے بہتر ہے۔

-32

اور کسی دوسرے کا سلام وپیام شیخ سے نہ کہے۔

-33

جو کچھ اس کا حال ہو، بھلا ہو یا برا اسے مرشد سے عرض کرے کیونکہ مرشد طبیب قلبی ہے اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کرے گا۔ مرشد کے کشف پر اعتماد کرکے سکوت نہ کرے۔

-34

اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو۔ اگر کچھ پڑھنا ضروری ہو تواس کی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے۔

-35

جو کچھ فیضِ باطن اسے پہنچے اسے مرشد کا طفیل سمجھے۔ اگر چہ خواب میں یا مراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچا ہے۔

وضاحت

-1

یہ تمام حقوق حضرت پھولپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’اصول تصوف‘‘ سے لکھے گئے ہیں۔

-2

یہ تمام آداب وحقوق شیخ کامل کے ہیں جس کی علامات ’’اصول تصوف‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

 

 

Facebook Comments