سُنّتِ رسُول سے رسُول کریم کے عِلم غیب و علم کُل کی نفی

 

سُنّتِ رسُول ؐ سے رسُول کریمؐ کے عِلم غیب و علم کُل کی نفی

کتاب اللہ کے بعد اب سُنّتِ رسول ؐ سے علم غیب و علم کُل کا خاصہ خدا ہونا اور غیر اللہ سے اس کی نفی ملا حظہ ہو۔ نبی کریم  ﷺ نے خود اپنے لئے علم غیب وعلم کل کی ہر موقع پر صراحت سے نفی فرمای ہے۔ چند احادیث پیش ہیں

1

بروایت رُبیع بنت معوذ

ان کی شادی کے موقع پر نبی کریم ؐ  کی موجودگی میں انصار ی بچیاں دُف بجا کر ان کے آبا کے مناقب پڑھ رہی تھیں جو بدر میں شہید ہو گئے تھے ٗ ان بچیوں میں سے ایک نے کہہ دِیا وَ فِیْنَا نبیٌ یَعَلَمُ مَا فِیْ غَدٍ کہ ہم میں نبی موجود ہیں جو کل کی باتیں جانتے ہیں۔ تو آپؐ نے فوراً فرمایا

دُعِیْ ھٰذِہٖ وَ قُوْلِیْ بالَّذِیْ کُنْتِ تَقُوْلِیْنَ۔  رواہ البخاری

اس بات کو چھوڑو۔ وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھی۔

اللہ اکبر ٗ مجلسِ تعلیم و تعلّم نہیں بلکہ محفلِ فرح و سرور ہے ٗ پھر کہنے والی ایک معصوم لڑکی ہے ٗ کوئی ’’شیخ الحدیث‘‘ یا علامہ نہیں ٗ پھر بات گیت کے ایک مصرعہ کی ہے  کسی عقیدہ وایمان سے متعلق کوئی عبارت نہیں مگر اللہ کے محبوب رسُول ؐ اس ایک کلمہ کو بھی برداشت نہ فرما سکے اپنے متعلق علم غیب کی ذراسی نسبت کی بھی اجازت نہ دی اور فوراً منع فرما دیا کہ یہ نہ کہو۔ اسے چھوڑ دو۔ اللہ اللہ

2

بروایت خارجہ ؓ بن زید

ایک نصاری بی بی حضرت اُمّ العلائؓ  صحابیہ نے اُنہیں خبر دی کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات پر جب اُنہیں غسل دے کر کفن پہنا دِیا گیا تو رسول اللہ  ﷺ تشریف لائے ۔ میں نے کہا ابوسائب (یہ حضرت عثمان ؓ  کی کُنیت ہے) تم پر خدا کی رحمت! میں تمہارے متعلق گواہی دیتی ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے ضرور تمہیں اپنی رحمت سے سرافراز فرمایا ہوگا اس پر حضرت  ﷺ  نے فرمایا۔ تمہیں یہ کیسے علم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ضرور ان کو سرافراز فرمایا ہوگا ٗ میں نے عرض کِیا۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ٗ (اگر ان کو نہیں) تو پھر اللہ تعالیٰ اور کس کو نوازے گا؟ ارشاد فرمایا

خدا کی قسم! ان کی وفات ہوگئی اور خدا کی قسم مجھے بھی ان کے متعلق خیر کی اُمید ہے مگر ٗ

وَ اللّٰہِ مَآ اَذْرِیْ وَ اَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا ذَا یُفْعَلُ بِی۔ روادہ البخاری

خدا کی قسم! گو میں اللہ کا رسُول ہوں مگر میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔

3

بروایت اُبی ؓ بن کعب

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا…

خضر نے کہا:  یا مُوسیٰ! جو علم اللہ نے مجھے دِیا ہے وہ آپ نہیں جانتے۔ اور جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے وہ میں نہیں جانتا… پھر جب دونوں سمندر کے اندر کشتی میں سوار ہوئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اور سمندر میں ایک یا دو چونچیں ماریں تو (حضرت) خضر نے (حضرت)  مُوسیٰ (علیہ السَّلام) سے کہا

مَا نَقَصَ علْمِیْ وَ عِلْمُکَ مِنْ عِلْمِ اللّٰہِ اِلَّا کَنَفَرَۃِ ھٰذَا الْعَصَفُور فِی البَحْرِ

میرے اور آپ کے (دونوں کے) علموں نے (مل کر بھی) اللہ کے علم میں کوئی کمی ٗ نہیں کی مگر سمندر سے اس چڑیا کی ایک چونچ برابر۔ (یعنی کمی نہیں کی)

اس حدیث پاک سے دو باتوں کا علم ہُوا ایک تو یہ کہ نبی کا علم ہویا غیر نبی کا۔ خِضر کا عِلم ہو یا موسٰی کا (علیہما السَّلام) یہ اللہ تعالیٰ کا عطاء فرمودہ ہے ٗ جس کو جو علم دِیا ہے اللہ نے دیا ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ حضرات انبیاء   واولیاء کے جملہ علوم جزئی ہیں ٗ یہ سب علوم مِل ملا کر بھی عِلم الٰہی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ٗ اُنہیں اللہ کے علم سے وہ نسبت بھی نہیں جو سمندر سے ایک قطرہ کو ہے ٗ اللہ کا علم کلّی ہے۔ محیط ہے۔ وسیع وبسیط ہے۔

4

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو سوتے میں کروٹ بدلی تو اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور کا دانہ پایا۔ اُسے اُٹھایا اور تناول فرمایا۔ پھر باقی رات آپ تکلیف سے پیچ وتاب کھاتے رہے آپ کو نیند نہ آئی آپ نے اپنی کسی زوجہؓ  کو یہ کیفیت بیان کی اور فرمایا

اِنّیْ وَ جَدْتُ تَمْرَۃً تَحْتَ جَنْبِیْ فَاَ کلتھاثُمَّ تَحَوَّفْتُ اَنْ تَکُوْ مِنَ الصدقَہ۔

میں نے اپنے پہلو تلے ایک کھجور کا دانہ پڑا پایا اور اسے کھا لیا۔ اب مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ صدقہ کے مال میں سے نہ ہو۔

اللہ اللہ ! کھجور رکھا تو لی مگر اس خوف سے کہ مبادایہ عشر کے مال میں سے ہو جو عموماً آپ کے دولت کدہ میں جمع ہوتا اور پھر مستحقین میں تقسیم کر دِیا جاتا تھا۔ اس فکر سے آپ کی نیند اُچاٹ ہو گئی ٗ شب بھر آپ پیچ و تاب کھاتے رہے۔ یہ ساری کیفیت اس بات کا علم نہ ہونے کی وجہ سے پیش آئی کہ وہ کھجور صدقہ کی ہے یا نہیں اگر معلوم ہوتا کہ صدقہ کی ہے تو حضرت تناول ہی نہ فرماتے اور اگر علم ہوتا کہ صدقہ کے مال میں سے نہیں تو رات بھر پریشان اور فکر مند اور بے چین نہ رہتے۔ صلی اللہ علیہ وسلم

5

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے سے گزرے تو آپ کو ایک کھجور پڑی ہوئی ملی ارشاد فرمایا

لَوْ لَا اِنّیْ اَخَافُ اَنْ تَکُوَنَ مِنَ الصَّدَقَۃِ لَا کَلُھَا (متفق علیہ

اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی کجھور ہوگی تو میں اسے کھا لیتا (صحیح بخاری ٗ صحیح مسلم )

تو آپ نے اس عدم علم و یقین کی وجہ سے کہ وہ کھجور صدقہ کی نہیں ٗ کھجور کو تناول نہ فرمایا۔ اگر مالِ صدقہ میں سے نہ ہونے کا یقین ہو جاتا تو تناول فرما لیتے۔

6

حضرت عُبادہؓ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں لیلتہ القدر کی خبر دیں ٗ مُسلمانوں میں سے دو شخص باہم جھگڑنے لگے تو آپ نے فرمایا

میں آیا تھا تاکہ تمہیں لیلتہ القدر کی خبر دوں لیکن فلاں فلاں باہم جھگڑنے لگے۔

فَرُفِعَتْ و عَسٰی اَنْ یَکُوْنَ خَیْراً لَکُمْ فَاْلتَمِسُوُ ھا فِی التّا سِعَۃِ وَ السَّابَعۃِ وَ الْخَامِسۃ۔

لہٰذا (اس کی تعین) اُٹھالی گئی۔ اور شاید یہ تمہارے لئے بہتر ہو۔ پس تم اسے پچیسویں ٗ ستائیسویں اور انتیسیویں(شب) میں تلاش کرو۔

7

حضرت ابوسعید ؓ خُدری کی روایت میں ہے ارشاد فرمایا

اُرِیْتُ ھٰذِہٖ اللَّیُلَۃَ ثُمَّ اُنْسِیْتُھَا فَاَ لْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وَ الْتَمِسُوْھَا کُلِّ وِتْرٍ (متفق علیہ)

مجھے یہ رات بتلائی گئی تھی پھر میں اُسے بھول گیا۔ پس تم اُسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

صحیح بخاری ٗ صحیح مُسلم ٗ مئوطا امام مالکؒ اور ابودائود وغیرہ میں بھی یہ حدیث مروی ہے۔

8

ایک روایت میں ہے ٗ ارشاد فرمایا

اِنِّیْ اُرِیْتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِوَانِّیْ نُسِّیْتُھَا فالتمسو ھا فی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی وتْرٍ

بے شک مجھے لیلتہ القدر بتلائی گئی تھی۔ مگر وہ بھلا دی گئی۔ پس اب تم اُسے (رمضان کے) آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔

یہ عظیم رات جو ہزار مہینوں سے بھی قدرو عظمت میں خیر و افضل اور برتر ہے۔ اُمّت کو آپ متعین کرکے نہ بتلا سکے کہ کون سی رات ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا قطعی علم عطا نہیں فرمایا۔ عطاء فرمایا بھی تھا مگر دو مُسلمانوں کے باہمی تزاع کی وجہ سے وہ علم واپس لے لیا گیا۔ اب آپ نے اندازہ سے فرمایا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اُسے تلاش کرو۔ کیونکہ رمضان المبارک میں اس کا ہونا تو قرآن کریم سے ثابت ہے۔ باقی قطعی تاریخ کا تعین آپ نے نہ فرمایا۔

9

اسی سلسلہ میں ایک اور حدیث ملا حظہ ہو

بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہما آپ ؐ نے (۱۰ ھ) عاشور (۱۰ محرم) کا روزہ رکھا اور صحابہ   کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ٗ صحابہ ؓ نے عرض کِیا یا رسول اللہ اس دن کی تو یہودونصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لَئِنِ بَقِیْتُ اِلٰی قَابِلٍ لَا صُوْمَنَّ التَّاسِعَ۔  رواہ مسلم

اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو ۹ محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا (تاکہ یہودونصاریٰ کی مخالفت میں ہو جائے)۔ مگر آپ اگلے سال تک زندہ نہ رہے۔ ربیع اوّل 11 ھ میں ہی وفات پا گئے۔ صلی اللہ علیہ وسلم

تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفاتِ شریفہ اور حلتِ مبارکہ کا بھی علم نہیں آپ فرما رہے ہیں کہ اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔ مگر خالق ومالک جل جلالہ کی طرف سے پیغامِ وصال آپہنچا اور آپ (۱۰ محرم سے۱۰۔۱۱ ربیع الاول تک) صرف دو ماہ بعد ہی اپنے رَب اعلیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ صلی اللہ علیہ وسلم

خلاصہ

کتاب اللہ کی متعدد نصوص قطعیہ کے بعد سنتِ رسول سے نو بار خود نبی الانبیاء سیّد المرسلینؑ کی ذات پاک کے لئے علم غیب وعلم کی نفی ثابت ہے۔ اس کے بعد اور کون مال کا لال ہے جس کے لئے علم غیب کا دعویٰ کِیا جائے۔

فقہاء اسلام ،غیر اللہ حتیٰ کہ رسُول کریم ؐ کے لئے علم غیب کی مدّعی کو کافر کہتے ہیں

 

امام الفقہاء حسن بن منصور المعروف بہ قاضیخاں (المتوفی ۵۹۲ ھ) رقمطر از ہیں

ایک شخص نے ایک عورت سے (گواہوں کے بغیر) اللہ اور رسول   کو گواہ بنا کر نکاح کیا ٗ یہ باطل ہے ……

و بعضھم جَعَلوا ذلک کفراً لِاَ نّہٗ یعتقد ان الرَّسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَعْلَمُ الغیب و ھُوَ کفرٌ (فتاویٰ قاصی خاں جلد اوّل کتاب النکاح

اور بعض نے اُسے کفر قرار دِیا ہے ٗ کیونکہ یہ اعتنقاد رکھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں ٗ اور یہ کفر ہے۔

واللہ اعلم بحقیقت الکلام

 

Facebook Comments