تحقیر

تحقیر
144
0

 

تحقیر

آیات

-1

اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ،ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ،اور عورتیں عورتوں سے تمسخرنہ کریں ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں۔(حجرات) (عام طور پر تمسخربھی دوسروں کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے ہوتا ہے )۔

-2

مسلمانوں کو حقیر سمجھنا حقیقت میں کفار کا شیوہ ہے ،سورہ ھود میں ہے :(حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم میں جو کافر سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تو تم کو اپنے جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا اتباع انہیں لوگوں نے کیا ہے جو ہم میں بالکل رذیل ہیں وہ بھی محض سرسری رائے سے اور ہم تم لوگوں میں کوئی بات اپنے سے زیادہ بھی نہیں پاتے بلکہ ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔(بیان القرآن

احادیث

-1

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے ،نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے ،پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا کہ تقوی یہاں ہے ،کسی انسان کے بر اہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، مسلمان کا خون، اس کامال اور اس کی عزت ہر چیز مسلمان پر حرام ہے۔ (مسلم

-2

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ مسلمان کی عزت وآبرو کے بارے میں زیادتی کی جائے ۔(مسلم

-3

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے) یوں کہہ دیا کہ آپ کے لئے صفیہ کا یہی عیب کافی ہے کہ وہ چھوٹے قد کی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اسے دریا میں ملادیا جائے تو اس پر غالب آجائے۔

-4

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کی نقل اتاری آپ نے فرمایا :’’اگر مجھے اتنی اتنی دولت بھی ملے توبھی میں کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں کرتا‘‘۔(ابوداوٗد

-5

حضر ت ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہوگا۔

ایک شخص نے عرض کیا  ’’انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں (کیا یہ بھی تکبر ہے)آپ نے فرمایا:  بے شک اللہ تعالیٰ حسین وجمیل ہے اور حسن وجمال کو پسند فرماتے ہیں(تکبریہ نہیں ،بلکہ) تکبریہ ہے کہ حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کوحقیر سمجھے۔(مسلم

آثارواقوال

-1

حضرت ابوحازم رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جب تک تمہارے اندر تین صفات پیدانہ ہوجائیں تم عالم نہیں بن سکتےـ

اپنے بڑے کے حکم سے سرکشی نہ کرو۔

اپنے سے نیچے والوں کو حقیر نہ سمجھو۔

اپنے علم پر دنیا کو ترجیح نہ دو۔(سنن ِدارمی

تحقیر کے مضراثرات

-1

تحقیر دوسروں کو تکلیف دیتی ہے ،لہذاوہ لوگ اس حقیر سمجھنے والے پر مسلط ہو کر اسے تکلیف اور نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

-2

تحقیر کی وجہ سے باہمی محبت اور قرابت کے تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔

-3

تحقیر اس بات کی علامت ہے کہ تحقیر کرنے والااپنے بارے میں جہالت اور دھوکے کا شکار ہے۔

-4

تحقیر انسان کی بہت ساری نیکیوں کو ضائع کردیتی ہے۔

-5

تحقیر ،تکبر کی قسموں میں سے ایک قسم ہے لہذا جو وعیدیں متکبر کے لئے ہیں وہ تحقیر کنندہ کے لئے بھی ہیں۔

-6

دوسروں کو حقیر سمجھنے والالوگوں کی نظر میں خودذلیل اور حقیر ہوکررہ جاتا ہے۔

 

Facebook Comments