تعلیم ودرس و تدریس

 

تعلیم ودرس و تدریس

آپ بچپن ہی سے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے لگے تھے اور اسی زمانے میں ان کی شرافت ٗ نیک نفسی اور بزرگی کی شہرت ہوگئی تھی۔

اس زمانے میں خلیفہ رقَّہ کے مقام پر تھا۔ بغداد کے امیر اور وزیر اس کے ساتھ تھے۔ وہ اپنے گھر والوں کو خط لکھا کرتے تھے۔ ان کے خطوط جب بغداد میں پہنچتے تو ان امیروں اور وزیروں کی عورتیں مکتب کے معلم کو پیغام بھجواتیں کہ خطوط کے جوابات لکھنے کے لئے احمد بن حنبل کو بھیج دیں ٗ تاکہ وہ ہمارے خطوط کے جوابات لکھ دیں۔

امام احمد بن حنبل وہاں آتے اور سر جھکا کر بیٹھ جاتے۔ اسی حالت میں خطوط کے جوابات لکھتے رہتے۔ یعنی نگاہ اُوپر نہیں آٹھاتے تھے… یہ حالت تھی آپ کی بچپن میں بھی۔ ابوسراج کہتے ہیں

میرے والد ٗ امام احمد بن حنبل کی شرم و حیا اور شرافت پر حیران ہو تے تھے اور کہا کرتے تھے ٗ میں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر کافی دولت خرچ کرتا ہوں۔ ان کے لئے استاد مقرر کرتا ہوں کہ وہ ادب سیکھیں مگر میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو رہا ہوں۔ دوسری طرف احمد بن حنبل یتیم لڑکا ہے ٗ لیکن تعلیم کے میدان میں کس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

امام صاحب نے مدرسے کی تعلیم کے بعد16سال کی عمر میں حدیث کی تعلیم

شروع کی۔ آپ نے تعلیم کی ابتدا قاضی ابویوسف کے درس کے حلقے سے کی۔ آپ خود کہتے ہیں

میں نے سب سے پہلے ابویوسف سے حدیث سیکھی۔

امام صاحب نے بغداد کے اساتذہ حدیث سے علم حاصل کرنے کے بعد کوفہ ٗ بصرہ ٗ ٗ مکہ ٗ مدینہ ٗ یمن ٗ شام جزیرہ ابادانی وغیرہ کا سفر کرکے وہاں کے اساتذہ سے علم حاصل کیا۔

تعلیم کے سلسلے میں آپ نے جو سفر کیے۔ ان کی تفصیل آپ خود ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں

میں نے سن179ہجری میں علی بن ہاشم بن برید سے علمِ حدیث حاصل کیا۔ یہ میرا تعلیم کا پہلا سال تھا۔ اسی سال ہشیم بن بشیر سے حدیث سنی۔ پھر اسی سال عبد اللہ بن مبارک آخری بار بغداد آئے۔ میں ان کے درس کی مجلس میں گیا تو معلوم ہوا ٗ وہ طرسوس چلے گئے۔ ان کا انتقال سن181 ہجری میں ہوا۔ اس وقت میری عمر16سال تھی۔ ہشیم بن بشیر کے انتقال کے وقت میں بیس سال کا تھا۔ اسی زمانے میں حماد بن زید اور مالک بن انس کا انتقال ہوا۔ میں ہشیم بن بشیر کی مجلس میں سن183ہجری تک رہا۔ اسی سال ان کا انتقال ہوا۔ ہم نے ان سے کتاب الحج لکھی۔ وہ ایک ہزاراحادیث پر مشتمل تھی۔ اس کے علاوہ کتاب القضا ٗ بعض تفاسیر اور مختصر کتابیں لکھیں۔ تقریباً تین ہزار احادیث جمع کیں۔ ہشیم ہمیں کتاب الجنائز کا املا کرا رہے تھے۔ اسی دوران حماد بن زید کے انتقال کی خبر پہنچی۔ ہشیم کے انتقال سے پہلے میں نے عبدالمومن بن عبداللہ بن خال عیسیٰ سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ سن182ہجری میں رے کے عالم ابومجاہد علی بن مجاہد کا ملی سے حدیث حاصل کی۔ اسی سال ملک رے کا سفرکیا۔سن186 ہجری میں بصرہ کا پہلا سفر کیا۔ سن187 ہجری میں مکہ مکرمہ گیا۔ وہاں سفیان بن عیینہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہمارے مکے پہنچنے سے کچھ پہلے فضیل بن عیاض کا انتقال ہو چکا تھا۔ اسی سال میں نے پہلا حج کیا۔ ابراہیم بن سعد سے حدیث لکھی۔ ان کے پیچھے کئی بار نماز پڑھی۔ سن198 ہجری میں ہم لوگ یمن میں عبدالرزاق کے یہاں تھے۔ سفیان بن عیینہ اور عبد الرحمن بن مہدی اور یحییٰ بن سعید خطان کی وفات کی خبر ملی۔ سن194 ہجری میں بصرہ میں سلیمان بن حرب اور ابوالنعمان عارم اور ابوعمر حوض سے حدیث سیکھی اور اگر میرے پاس پچاس درہم ہوتے تو میں جریرین عبدالحمید کے ہاں رے جاتا۔ میرے بعض ساتھی گئے مگر میں نہ جا سکا۔ کوفہ گیا تو ایسے مکان میں ٹھہرا جس میں اینٹ کا تکیہ تھا۔ وہاں مجھے بخار ہو گیا تو والدہ کے پاس چلا آیا ٗ میں والدہ کی اجازت کے بغیر کوفہ گیا تھا۔ پانچ بار بصرہ گیا۔ پہلی بار رجب سن186ہجری میں گیا۔ وہاں معمر بن سلیمان سے حدیث لی۔ دوسری بار سن 190 ہجری میں گیا۔ تیسری بار سن194ہجری میں گیا۔ وہاں یحییٰ بن سعید کے ہاں چھ ماہ ٹھہرا۔ وہاں سے واسط پہنچا۔ وہاں یزید بن ہارون کی خدمت میں پہنچا۔ یہ بات جب یحییٰ بن سعید نے سنی تو انہوں نے کہا

احمد بن حنبل یزید بن ہارون کے ہاں کیا کریں گے۔

مطلب یہ تھا کہ وہ یزید بن ہارون سے علم میں آگے ہیں۔

ابراہیم بن ہاشم کا بیان ہے کہ یزید بن عبدالحمید رے سے بغداد آئے اور بنی مسیب میں ٹھہرے۔ وہاں سے مشرقی بغداد آئے۔ ان دنوں دریائے دجلہ میں خطر ناک سیلاب آیا ہوا تھا۔ میں نے احمد بن حنبل سے کہا

ہم لوگ اس پار چل کر یزید بن عبدالحمید سے احادیثِ مبارکہ سنیں۔

جواب میں امام احمد بن حنبل نے فرمایا

میری ماں مجھے اجازت نہیں دیتی۔ دریائے دجلہ میں سیلاب آیا ہوا ہے۔

تب میں نے تنہا جا کر ان سے پڑھا۔ یہ سیلاب سن 186 ہجری میں آیا تھا۔ اس وقت ہارون رشید کی طرف سے بغداد کا حاکم سندھی بن شایک تھا۔ اس نے لوگوں کو دجلہ پار کرنے سے روک دیا تھا۔

یعقوب بن اسحاق بن ابواسرائیل کا بیان ہے

میرے والد اور احمد بن حنبل نے علم حاصل کرنے کے لئے بحری سفر کیا۔ ایسے میں کشتی ٹوٹ گئی تو انہیں ایک جزیرے پر اترنا پڑا۔

آپ کے صاحب زادے عبداللہ کا بیان ہے

میرے والد نے پیدل طرسوس کا سفر کیا۔

امام صاحب خود بیان کرتے ہیں

میں یمن میں ابراہیم بن عقیل کے پاس پہنچا۔ وہ سخت مزاج تھے۔ ان تک رسائی مشکل تھی۔ ان کے دروازے پر ایک دن پڑا رہا ٗ تب ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے مجھ سے صرف دو حدیثیں بیان کیں۔ ان کے پاس اگرچہ بہت سی احادیثیں تھیں ٗ لیکن میں ان کے مزاج کی سختی کی بنا پر ان سے مزید احادیث نہ سن سکا۔

یحییٰ بن یحییٰ کے بارے میں امام صاحب فرماتے ہیں

میرے نزدیک یحییٰ بن یحییٰ امام تھے۔ اگر میرے پاس سفر خرچ ہوتا تو میں ان کے ہاں سفر کرکے جاتا۔

مطلب یہ کہ اس زمانے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے علم حاصل کرنے کے لئے اس قدر سفر کیے جب کہ سفر کرنا آسان کام نہیں تھا۔ سفر پیدل کیا جاتا تھا یا اُونٹ اور گھوڑوں پر کیا جاتا تھا۔ بحری سفر بھی عام کشتیوں میں ہوتا تھا اور وہ بالکل محفوظ نہیں تھا۔

احمد بن ابراہیم کا بیان ہے

امام احمد بن حنبل عبدالرزاق کے ہاں مکہ سے آئے۔ میں نے انہیں بہت تھکاماندہ پایا۔ میں نے ان سے کہا ٗ ابوعبداللہ! اپ نے اس سفر میں بڑی مشقت برداشت کی۔ جسم پر تھکن کے آثار ہیں۔

انہوں نے جواب دیا

ہم نے عبدالرزاق سے جو علم حاصل کیا ہے ٗ اس کے مقابلے میں یہ مشقت بہت معمولی ہے۔

ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل سے یحییٰ بن معین کے ساتھ حج کیا۔ امام صاحب نے یحییٰ بن معین سے کہا

انشاء اللہ حج کے بعد ہم لوگ عبدالرزاق کے ہاں صنعاء میں جا کر ان سے حدیث کا سماع کریں گے۔

امام صاحب کا بیان ہے

ہم طواف کر رہے تھے کہ عبدالرزاق طواف میں مل گئے۔ ابن معین انہیں پہچانتے تھے۔ عبدالرزاق طواف اور نماز سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم کے پیچھے بیٹھ گئے۔ ابن معین نے ان کے پاس جا کر سلام کیا اور کہا

یہ آپ کے بھائی احمد بن حنبل ہیں۔

عبد الرزاق بولے

ان کے بارے میں مجھے اچھی باتیں معلوم ہیں۔

اس پر ابن معین نے کہا

ان شاء اللہ ! ہم کل آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر احادیثِ مبارکہ سنیں گے۔

اس کے بعد عبدالرزاق اُٹھ کر چلے گئے۔ تب امام احمد بن حنبل نے فرمایا

آپ نے یہ کیا کیا۔ ان سے درس کا وعدہ کر لیا؟

یحییٰ بن معین نے جواب میں کہا

آپ تو خود ان کے پاس جا کر احادیث سننا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صنعاء تک کے لمبے سفر سے بچا لیا۔ سفر خرچ سے بھی بچ گئے۔

اس پر حضرت امام احمد بن حنبل نے کہا

اللہ تعالیٰ مجھے ایسی حالت میں نہ دیکھے کہ آپ کہ کہنے سے اپنی نیت خراب کر لوں۔ ہم حدیث ان کے ہاں صنعا جا کر ہی سنیں گے۔

چنانچہ حج سے فراغت کے بعد امام صاحب نے یمن کا سفر کیا۔ صنعا پہنچے اور عبدالرزاق سے علم حاصل کیا ٗ حالانکہ اس وقت آپ شدید مالی مشکلات سے دو چار تھے۔ یہ سفر کرنے کے لئے آپ نے سار بانوں کے ہاں مزدوری کی اور پیسے جمع کرکے  سفر کیا۔

خود عبدالرزاق کہتے ہیں

احمد بن حنبل ہمارے ہاں دو سال تک ٹھہرے۔ ان کی مالی مشکلات دیکھ کر میں نے ان سے کہا ٗ ابوعبداللہ! ہمارے ملک یمن میں تجارت نہیں ہے اور نہ ہی روزی کی فراوانی ہے ٗ یہ کچھ دینار ہیں ٗ ان کو قبول کر لیں ٗ مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ واقعہ یاد کرکے عبدالرزاق رویا کرتے تھے۔ امام صاحب یزید بن ہارون کے ہاں سخت سردی کے موسم میں گئے۔ مالی مشکلات آڑے آئیں تو اپنا جبّہ ایک ساتھی کو دیا اور فرمایا

اسے فروخت کر آئیں۔

اس ساتھی نے اس بات کا ذکر یزید بن ہارون سے کر دیا۔ انہوں نے دو سو درہم آپ کو بھجوائے ۔ امام صاحب نے وہ درہم لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا

میں ضرورت مند اور مسافر ضرور ہوں مگر میں اپنے آپ کو اس قسم کے ہدیوں کا عادی بنانا پسند نہیں کرتا۔

اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب آپ سفیان بن عیینہ سے علم حاصل کر رہے تھے کہ کسی نے آپ کے کپڑے چرا لیے۔ جب انہیں چوری کا پتا چلا تو پوچھا

میری ان تختیوں کے بارے میں بتائو جن پر میں نے احادیث لکھی ہوئی ہیں۔

انہیں بتایا گیا

وہ محفوظ ہیں۔

اس پر اطمینان کا اظہار فرمایا۔ اس واقعے کے بعد آپ کئی دن تک درس کی مجلس میں حاضر نہیں ہوئے۔ ایک ساتھی نے جا کر وجہ پوچھی تو بتایا

کپڑے تو چوری ہو گئے… جسم پر جو کپڑے ہیں ٗ وہ پرانے اور میلے ہیں۔

پھر آپ نے اس ساتھی سے ایک دینار لے کر کپڑے خریدے۔

آپ کی شہرت ہر طرف پھیل چکی تھی۔ آپ کے علم اور دین داری کا بہت چرچا تھا ٗ ان حالات میں ایک شخص نے آپ کو دیکھا کہ قلم دوات اُٹھائے ایک محدث کی درس گاہ کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ اس نے حیران ہو کر کہا

ابوعبداللہ!  آپ علم کے لحاظ سے نہایت بلند مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ پھر بھی پڑھنے جا رہے ہیں۔

اس کی بات سن کر آپ نے فرمایا

یہ قلم دوات قبرستان تک ساتھ جائیں گے۔

محمد بن اسماعیل صانع کا بیان ہے ٗ ہم ایک مرتبہ بغداد گئے۔ میں نے امام احمد بن حنبل کو اس حال میں دیکھا کہ جوتے ہاتھ میں ہیں اور دوڑے جا رہے ہیں۔ میرے والد نے بڑھ کر ان کے کپڑے پکڑ لیے اور پوچھا

ابوعبداللہ! کب تک طالب علمی کرتے رہیں گے۔ آپ کو بچوں کی طرف دوڑتے ہوئے شرم بھی محسوس نہیں ہوتی۔

امام صاحب نے ان کے جواب میں صرف اتنا کہا

موت تک۔

اور آگے بڑھ گئے۔

طالب علمی کے زمانے میں امام صاحب جو حدیث پڑھتے ٗ اس پر عمل بھی کرتے ۔ یہاں تک کہ جب آپ نے یہ حدیث پڑھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور ابوطیبہ حجام کو ایک دینار عنایت فرمایا تو انہوں نے بھی پچھنے لگوائے اور حجام کو ایک دینار دِیا۔

آپ امام شافعی رحمہ اللہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ برابران کے ساتھ رہے ٗ یہاں تک کہ امام شافعی کا انتقال ہو گیا۔ ایک مرتبہ آپ کے صاحب زادے نے پوچھا

یہ شافعی کون ہیں ٗ میں دیکھتا ہوں کہ اپ ان کے لئے بہت زیادہ دُعا کرتے ہیں۔

امام احمد بن حنبل نے فرمایا

بیٹے ! شافعی دُنیا کے لئے آفتاب اور بدن کے لئے صحت کی مانند ہیں۔ کیا ان دونوں چیزوں کا بدل ہو سکتا ہے۔ میں تیس سال سے ان کے لئے دُعا اور استغفار کر رہا ہوں۔ ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں قلم دوات اور کاغذ ہے ٗ اس کی گردن پر شافعی کا احسان ہے۔

محفوظ بن ابوتوبہ بغدادی کہتے ہیں

ایک مرتبہ میں نے امام احمد بن حنبل کو امام شافعی کے درس میں بیٹھے دیکھا تو ان سے کہا

اے ابوعبداللہ! ادھر مسجد کے ایک گوشے میں سفیان بن عیینہ درس دے رہے ہیں۔

(مطلب یہ تھا کہ آپ ان کے درس میں کیوں نہیں بیٹھ رہے)

امام احمد بن حنبل نے فرمایا

یہ شافعی نہیں ملیں گے ٗ وہ سفیان مل جائیں گے۔

قتیبہ بن سعید کہتے ہیں

میں احمد بن حنبل کی ملاقات کے لئے بغداد آگیا۔ وہ یحییٰ بن معین کے ساتھ میرے پاس آئے اور ہم نے حدیث کا مذاکرہ شروع کیا۔ جب تک یہ مجلس جاری رہی ۔ احمد بن حنبل کھڑے ہی رہے۔ جب میں کہتا ٗ ابوعبداللہ اپنی جگہ بیٹھ جائیں… تو کہتے ٗ آپ میری فکر نہ کریں… میں چاہتا ہوں ٗ علم کو اس کے طریقے سے حاصل کروں۔

آپ نے چالیس سال تک بے شمار اساتذہ سے مسلسل علم حاصل کیا۔ تب کہیں جا کر درس کا اپنا حلقہ قائم کیا اور فتویٰ دینا شروع کیا۔

آپ کا ایک پڑوسی گناہوں میں مبتلا ہو گیا اور گناہ کے کاموں میں بہت آگے بڑھ گیا۔ ایک دن اس نے امام صاحب کی مجلس میں آکر سلام کیا۔ آپ نے بہت ناگواری سے سلام کا جواب دیا ۔ اس پر اس نے کہا

ابوعبداللہ! اب آپ کو مجھ سے نفرت نہیں کرنی چاہیے ٗ کیونکہ میں نے ایک خواب دیکھ کر اپنی زندگی بدل لی ہے

امام صاحب نے اس سے پوچھا

تم نے کیا خواب دیکھا ہے

اس نے بتایا

میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک بلند مقام پر ہیں… اور بہت سے لوگ نیچے بیٹھے ہیں… ان میں سے ایک آدمی اُٹھ کر عرض کرتا ہے ٗآپ میرے لئے دُعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دُعا فرماتے ہیں۔ آخر میں نے بھی دُعا کرانے کے لئے اُٹھنا چاہا ٗ لیکن پھر اپنے گناہوں کا خیال آگیا۔ شرم کی وجہ سے میں اُٹھ نہ سکا ٗ لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی مجھ سے فرمایا ٗ تم بھی مجھ سے دُعا کے لئے کہو ٗ میں تمہارے لئے دُعا کروں گا ٗ کیونکہ تم میرے کسی صحابی کو بُرا نہیں کہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر میں بھی اُٹھا ٗ دُعا کے لئے عرض کیا ٗ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے بھی دُعا فرمائی۔ خواب سے بیدار ہوا تو اپنی پچھلی زندگی سے توبہ کر لی۔

یہ خواب سن کر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا

اے جعفر! اے فلاں… اے فلاں… اس واقعے کو یاد کر لو… اور لوگوں سے اس خواب کو بیان کرو۔ اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

ابودائود کہتے ہیں

اما م احمد ؒ  کی مجلس آخرت کی مجلس ہوتی تھی ٗ آپ اپنی مجلس میں کبھی دُنیا کا ذکر نہیں کرتے تھے ٗ میں نے انہیں کبھی دُنیا کا نام لیتے نہیں سنا۔ دو سو مشائخ سے مل چکا ہوں مگر ان کی مانند کسی کو نہیں دیکھا۔ عوام جن باتوں میں مشغول رہتے ہیں ٗ میں نے انہیں کبھی ایسی باتوں میں مشغول نہیں پایا۔ البتہ جب علمی گفتگو ہوتی تو کھل کر بات کرتے۔

آپ ہزاروں احادیث کے حافظ تھے اور دماغ علمِ حدیث کا خزانہ تھا۔

اس کے باوجود احادیث کی روایت میں احتیاط کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ کتاب ہاتھ میں لے کر درس دیا کرتے تھے ٗ اپنے حافظے پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔

ابوزرعہ رازی بیان کرتے ہیں

امام صاحب کو ایک لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں۔ آپ کی وفات کے وقت اپ کی کتابیں جمع کی گئیں تو کئی اُونٹوں پر لادنے جتنا وزن ہو گیا… لیکن ان کتابوں میں سے کسی کتاب پر یا اس کی پشت پر نہیں تھا کہ فلاں شیخ نے انہیں بیان کیا ہے۔

آپ کے اساتذہ کی تعدا دہزاروں میں پہنچتی ہے۔ ان چند مشہور اساتذہ کے نام یہ ہیں

وکیع بن جراح ٗ محمد بن ادریس شافعی (امام شافعی) ٗ معروف کرخی ٗ علی بن مدینی ٗ عبدالرزاق صنعانی ٗ اسماعیل بن علیہ ٗ عبدالرحمن بن مہدی ٗ چچا زاد بھائی حنبل بن اسحاق ٗ بزاز ٗمحمد بن اسماعیل بخاری (امام بخاری) ٗ مسلم بن حجاج نیشا پوری ٗ ابوذرعہ رازی ٗ ابوحاکم رازی وغیرہ۔

آپ کے فرزند عبداللہ نے آپ سے تیس ہزار احادیث روایت کیں۔ امام صاحب کے ایک استاد کا تعلق ہمارے ملک کے علاقے سندھ سے ہے۔ ان کا نام ابن علی ہے۔ ان کے دادا سندھ کے تھے۔ آپ کے دوشاگرد بھی سندھی ہیں جیش بن سندی بغدادی اور ابوبکر سندی خواتیمی بغدادی۔

 

Facebook Comments