حجۃ الوداع

 

حجۃ الوداع

اگلے سال آنحضرت ؐ  مکہ معظمہ میں حج کے لئے تشریف لے گئے اور ایک لاکھ سے زائد مُسلمانوں کے سامنے حجتہُ الوداع کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ حج سے فارغ ہو کر جب حضور ؐ مدینہ کو لَوٹے تو طبیعت ناساز ہو گئی۔ کم و بیش چودہ روز بیمار رہے ۔ جب بیماری کی شدّت ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بنت حضرت صدیق اکبرؓ کے ہاں قیام فرمایا۔ ایک روز مسجد میں تشریف لائے اور شہدائے اُحد کے لئے دُعا کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ

اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دِیا ہے کہ خواہ وہ دُنیا کے انعامات قبول کرے  خواہ وصالِ الٰہی ۔ سو اُس بندے نے خُدا کے قُرب ہی کو ترجیح دی ہے۔

جناب ابوبکر ؓ یہ سُن کر رونے لگے تو آنحضرت نے فرمایا۔

ابوبکرؓ ہوش کرو۔

پھر فرمایا۔

مسجد کی طرف جس قدر مکانوں کے دروازے ہیں ٗ بند کر دئیے جائیں۔ مگر ابوبکر ؓ  کا دروازہ بدستور رہے۔

پھر ارشاد کیا کہ

میرے نزدیک رفاقت و احسانات کے اعتبار سے ابوبکر ؓ سے افضل کوئی نہیں۔ اگر دُنیا میں میں کسی کو دوست بنا سکتا تو یقینا ابوبکر ؓ  کو بناتا۔ لیکن اِسلام کا رِشتہ ہی بہت کافی ہے۔

 

Facebook Comments